بنگلورو، 9/جون (ایس او نیوز /ایجنسی)سابق وزیر اعظم ایچ۔ ڈی۔ دیوے گوڑا کی راجیہ سبھا نامزدگی کے معاملے پر کرناٹک کی سیاست میں بیان بازی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک جانب آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک امور کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے بی جے پی پر دیوے گوڑا کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا، تو دوسری جانب جے ڈی ایس نے ان کے بیان کو سیاسی منافقت قرار دیتے ہوئے سخت جواب دیا ہے۔
سرجے والا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی نے سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد نہ کرکے جے ڈی ایس اور ریاست کرناٹک کی توہین کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ کانگریس نے ماضی میں سیاسی اختلافات کے باوجود دیوے گوڑا کے وقار کا احترام کرتے ہوئے ان کی راجیہ سبھا رکنیت کی حمایت کی تھی۔
تاہم، اس بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جنتا دل (سیکولر) نے کانگریس اور سرجے والا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ جے ڈی ایس کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا کہ کانگریس کو جے ڈی ایس کے بارے میں بات کرنے سے قبل اپنی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینا چاہیے۔
پارٹی نے الزام لگایا کہ 1997 میں کانگریس نے سیاسی سازش کے ذریعے دیوے گوڑا کی وزارتِ عظمیٰ کا خاتمہ کیا تھا، جسے کرناٹک کے عوام آج بھی یاد رکھتے ہیں۔ جے ڈی ایس کے مطابق 2019 میں بھی کانگریس نے اتحاد کے باوجود ایچ۔ ڈی۔ کماراسوامی کی قیادت والی حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
جے ڈی ایس نے اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس سیکولرزم کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن عملی سیاست میں اس کا رویہ مختلف رہا ہے۔ پارٹی نے کانگریس پر سابق وزرائے اعظم پی۔ وی۔ نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ کے ساتھ نامناسب سلوک کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
پارٹی نے مزید کہا کہ دیوے گوڑا محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ملک کے واحد زندہ سابق وزیر اعظم اور کسانوں کی آواز سمجھے جاتے ہیں۔ جے ڈی ایس کے مطابق ان کے نام پر سیاست کرنا مناسب نہیں اور تمام جماعتوں کو ان کے قد و وقار کا احترام کرنا چاہیے۔
اپنے ردِعمل میں جے ڈی ایس نے سرجے والا کو مشورہ دیا کہ وہ جے ڈی ایس کے معاملات پر تبصرہ کرنے کے بجائے کانگریس اور ریاستی حکومت کے اندرونی اختلافات اور سیاسی چیلنجوں پر توجہ دیں۔
دوسری جانب، بی جے پی نے راجیہ سبھا نامزدگیوں کے سلسلے میں اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ابھی تک سرجے والا کے الزامات پر کوئی تفصیلی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دیوے گوڑا کی راجیہ سبھا نامزدگی کا معاملہ اب محض ایک پارلیمانی انتخاب کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ کانگریس، جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی برتری کی نئی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی بیانات اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔