نئی دہلی ، یکم جون (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے اسمبلی حلقے میں تقریباً 200 مکانات کی مسماری کی سخت مذمت کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کو غریب اور عوام مخالف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران غریبوں کے نام پر ووٹ مانگنے والی بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد انہی لوگوں کو بے گھر کرنے میں مصروف ہے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ جن خاندانوں کے گھر منہدم کیے گئے وہ نہ زمین مافیا تھے اور نہ ہی قبضہ کرنے والے عناصر، بلکہ وہ ایسے محنت کش شہری تھے جو کئی دہائیوں سے اس علاقے میں رہ رہے تھے اور اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے مکانات تعمیر یا خرید چکے تھے۔ ان کے مطابق یہ علاقہ شالیمار گاؤں سے متصل ایک پرانی آبادی کا حصہ ہے اور بی جے پی ماضی میں اس سمیت 1511 غیر مجاز کالونیوں کو باقاعدہ بنانے کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو ایک یادداشت پیش کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی فوری اور باوقار بازآبادکاری کی جائے۔ اگر بازآبادکاری ممکن نہ ہو تو ہر متاثرہ خاندان کو منہدم کی گئی جائیداد اور زمین کی موجودہ مارکیٹ قیمت کے مطابق مکمل معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ متبادل رہائش کا انتظام کر سکیں۔
ڈاکٹر نریش کمار نے الزام لگایا کہ دہلی حکومت نے عدالتوں میں بھی متاثرہ خاندانوں کے مفادات کا مؤثر دفاع نہیں کیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انسانی بحران کی ذمہ داری سے وزیر اعلیٰ خود کو الگ نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے کانگریس حکومتوں کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے حق کے قانون 2005 کے تحت حاصل معلومات کے مطابق 1990 تک کانگریس حکومتوں نے دہلی میں 45 بازآبادکاری کالونیوں میں معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے 2.18 لاکھ سے زیادہ پلاٹ مختص کیے تھے۔ بعد میں سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کی قیادت میں 20 جون 2013 کے حکم کے ذریعے ان جائیدادوں کو فری ہولڈ ملکیت میں تبدیل کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1990 سے 2006 کے درمیان دوارکا، نریلا، باوانہ، بکر والا اور بپرولا سمیت مختلف علاقوں میں نئی بازآبادکاری کالونیاں قائم کی گئیں، جہاں تقریباً 92 ہزار مزید جھگی بستیوں کے رہائشیوں کو پلاٹ فراہم کیے گئے۔ بعد ازاں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں ایسی پالیسی اپنائی گئی جس کے تحت اہل افراد کو ان کی موجودہ رہائش گاہوں کے قریب کثیر منزلہ رہائشی منصوبوں میں بسایا گیا۔
ڈاکٹر نریش کمار نے مطالبہ کیا کہ رہائشی آبادیوں کے خلاف تمام انہدامی کارروائیاں اس وقت تک روکی جائیں جب تک ہر متاثرہ خاندان کی بازآبادکاری یا موجودہ مارکیٹ قیمت کے مطابق معاوضے کو یقینی نہ بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرین کو انصاف نہ ملا تو کانگریس ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور جمہوری احتجاج کے ساتھ ساتھ قانونی راستے بھی اختیار کرے گی۔