ہلیال ، 16 / جون (ایس او نیوز) شہر میں اتوار کی رات کو شراب کے نشے میں دھت ایک غنڈے نے عام سڑک پر تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک جو اودھم مچایا اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے باوجود موقع پر موجود پولیس سب انسپکٹر نے کڑی کارروائی نہیں کی ، اس سے محکمہ پولیس کی اہلیت اور کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔
ایک موالی کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو دھکے دینےاور گھسیٹنے کے علاوہ دوڑاتے ہوئے حملہ کرنے اور دھمکانے کی ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔ سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں ایک معمولی غنڈے کے ذریعے پولیس کے ساتھ کیے جا رہے نازیبا سلوک، ہنگامے اور ڈرامے پر قابو پانے میں پولیس افسران کی ناکامی صاف نظر آ رہی ہے ۔ اس صورتحال پر عوام نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔
ہلیال کے موریا ہوٹل کے قریب پیش آئے ہوئے اس واقعے کی وجہ سے پولیس کی قیادت، کام کرنے کے طریقہ کار کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے تحفظ پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ بار میں شراب پینے کے بعد باہرنکل کر منجا نامی ایک غنڈے کے ذریعے سڑک پر دھاندلی مچانے کی شکایت ملنے پر پی ایس آئی بسوا راج مبنور کی قیادت میں پولیس ٹیم موقع پر پہنچی تو عوام کے سامنے ہی اس غنڈے نے پولیس اہلکاروں کو دھمکانا، دوڑانا اور گھسیٹنا شروع کیا ۔ وہ پولیس سب انسپکٹر بسوا راج کے آمنے سامنے کھڑے ہو کر اونچی آواز میں للکارنے، گندی گالیاں دینے کے ساتھ پولیس جیپ کا دروازہ زبردستی کھینچنے اور جیپ کے آگے لیٹ کر اسے آگے بڑھنے سے روکنے جیسی حرکتیں کرتا رہا ۔
تعجب خیز بات یہ دیکھنے میں آئی کہ سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں ہو رہی اس ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لئے پولیس افسران نے کوئی موثر کارروائی نہیں کی ۔ پی ایس آئی نے جیپ سے نیچے اتر کر اس غنڈے پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی ۔ اس سے بقیہ پولیس اہلکاروں نے خود کو بے بس محسوس کیا ۔ اپنے ماتحتوں پر ایک غنڈے کے ذریعے حملہ ہونے پر بھی افسر کی خاموشی نے محکمہ پولیس کی قیادت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔
اس سے بھی بڑی حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ سارا ہنگامہ اور ہائی ڈرامہ جس جگہ ہو رہا تھا، وہاں سے صرف دو سو میٹر کی دوری پر پولیس اسٹیشن موجود تھا ۔ اس کے باوجود ڈیڑھ گھنٹے تک چلے اس ہنگامے پر قابو پانے کے لئے نہ اضافی پولیس کمک طلب کی گئی نہ کوئی فوری مدد پہنچی ۔
پتہ چلا ہے کہ منجا نامی اس غنڈے کو تقریباً نو سال قبل محکمہ پولیس نے ضلع بدر کر دیا تھا ۔ ایسے بدنام زمانہ غنڈے اور موالی کے زریعے بالکل فلمی انداز میں سرعام ہنگامہ آرائی اور پولیس کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کے بعد بھی موقع پر موجود پولیس افسر کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔
پولیس ایس پی کا بیان :ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این نے اس معاملے پراپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا :"ہلیال میں جو واقعہ ہوا ہے اس کے ضمن میں ملزم کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ معاملے کی تمام تفصیلات اور ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ جب یہ واقعہ ہو رہا تھا، تب وہاں پر اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لئے موجود پی ایس آئی کے رویہ اور کام کرنے کے طریقہ کار کے تعلق سے اندرونی طور پر تحقیقات کی جا رہی ہے ۔ اگر تحقیقات کے دوران فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی یا پھر قانون کی خلاف ورزی سامنے آئی تو متعلقہ افراد کے خلاف مناسب محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی ۔