نئی دہلی ، یکم جون (ایس او نیوز /ایجنسی)پہلے نیٹ پرچہ لیک، پھر سی بی ایس ای کے ۱۲؍ ویں کے نتائج میں آن اسکرین مارکینگ سسٹم (او ایم آر) کی تباہ کاریوں سے ملک بھر میں طلبہ غیر معمولی ذہنی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ ملک میں تعلیمی نظام کی حالت زار اور طلبہ کی پریشانیوں کیلئے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اتوار کو ایک طویل پوسٹ میں کہا ہےکہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو بدعنوانی کے جال میں پھنسا کر تعلیمی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سی بی ایس ای نتائج میں خامیوں کی نشاندہی پر ۱۲؍ ویں کےطلبہ کو سوشل میڈیا پر ٹرول کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’(جن طلبہ کو)ایگزام واریئر بنانے چلے تھے، (انہی پر) ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ اور پاکستانی ہونے کی تہمت لگادی۔ ‘‘
کھرگے نے ملک کے تعلیمی نظام کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’سی بی ایس ای کے امتحان دینے والے ۱۷؍سال کے طلبہ ہوں یا نیٹ کے امیدوار، مودی حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو اپنی بدعنوانی کے جال میں پھنسا کر ہندوستان کے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی سازش رچی ہے۔ ‘‘ کانگریس صدر نے نشاندہی کی کہ ’’کبھی آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، مرکزی یونیورسٹیاں اور قومی تعلیمی ادارے ملک کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا مرکز ہوا کرتے تھے، لیکن اب یہ حالت کردی گئی ہےکہ بی جے پی کی لوٹ مار کے باعث ہم ایک بورڈ امتحان بھی صحیح طریقے سے منعقد نہیں کروا پا رہے ہیں۔ ‘‘ تعلیم نظام کی خامیوں کو مودی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کانگریس صدر نےکہا کہ کوئی بھی ادارہ اٹھا کردیکھ لیجئے، یوجی سی تباہ ہوگیا، جے این یو اور مرکزی یونیورسٹیوں میں انتقامی سیاست ہورہی ہے، طلبہ کی آواز دبائی جارہی ہے، آندولن کو پسپا کیاگیا، وائس چانسلرس کی تقرری میں نظریاتی قبضہ کیا گیا اور ملک بھر میں ۹۰؍ ہزار سے زائد اسکول بند کرکے سال بہ سال تعلیم کا بجٹ گھٹایا جارہا ہے۔ کھرگے نے اپنے پوسٹ میں اے آئی سے بنائی گئی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں وزیراعظم مودی کو ’’پریکشا پے چرچا‘‘ کرتے ہوئے دکھایا گیاہے۔ تصویر کے نچلے حصے میں پریشان اور فکرمند طلبہ کو دکھایا گیا ہے، جن کے ارد گرد مختلف امتحانی تنازعات، سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے اور امتحانی نظام سے متعلق خبروں کی سرخیاں نمایاں ہیں۔ تصویر پر درج عبارت میں طلبہ کے ’ایگزام واریئرس‘ سے ’پیپر لیک کے متاثرین‘ بننے تک تحریر ہے۔ کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ جب بھی نوجوان سڑکوں پر آتا ہے، جین زی آواز اٹھاتا ہےتو ہر بار اس کی آواز دبائی جاتی ہے،اس پر الزام لگائے جاتے ہیں اوراسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مودی سرکار پر نوکری دینے کے بجائے نوکری بھرتی کیلئے ہونےوالے امتحانات کے ذریعہ اپنی جیبیں بھرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے۔ کانگریس صدر نے دوٹوک انداز میں وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مودی جی! مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیجئے، تبھی طلبہ کو انصاف ملے گا۔‘‘
کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نےاتوار کو ایک پوسٹ کر کے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ(او ایم آر) کیلئے ٹھیکہ دینے میں جانبداری کامعاملہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ ’سی ای او ایم پی ٹی‘ (کوئمپٹ)کمپنی کو ٹھیکہ دینے کیلئے ضوابط کو نرم کیا گیا جس کا نتیجہ ہے کہ طلبہ کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
انہوں نے طلبہ کے جوابی پرچوں کے خلط ملط ہوجانے کے الزامات کی بھی تائید کی۔ اس سے قبل راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے ۱۲؍ ویں کے طلبہ کے ایک گروپ سے ملاقات کااپناایک ویڈیو شیئر کیااور کہا کہ یہ بہادر نوجوان ہندوستانی ہیں جنہیں جائز سوال اٹھانے پر جواب دینے کے بجائے توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ حکومت حامی صحافیوں نےاِن طلبہ کو سوروس کا ایجنٹ اور پاکستانی تک قرار دیا۔ اسی پس منظر میں راہل گاندھی نے مذکورہ ملاقات کو ’’ اپنے ساتھی’ملک دشمن سوروس ایجنٹس‘ کے ساتھ ایک چشم کشا گفتگو‘‘ قرار دیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوے کہ یہ طلبہ روشن اور محفوظ مستقبل کے مستحق ہیں اور انہوں نے کہاکہ’’ ہم یقینی بنائیں گے کہ انہیں روشن مستقبل ملے۔ ‘‘راہل گاندھی نے ویڈیو کے ساتھ ایکس پر پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ویدانت اور اس کے دوست ذہین اور بہادر نوجوان ہندوستانی ہیں جنہوں نے سی بی ایس ای اور مودی حکومت سے سادہ سوالات پوچھے، لیکن انہیں جواب ملنے کے بجائے توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘‘ویڈیو میں راہل گاندھی طلبہ سے ان کے تجربات کے بارے میں غیر رسمی گفتگو کرتے نظر آئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ جائز خدشات اور مسائل اٹھانے کے بعد انہیں ’’پاکستانی‘‘ اور’’ڈیپ اسٹیٹ کے ایجنٹ‘‘ قرار دیا گیا۔