ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دو مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے خاتون کے اغوا کا ڈرامہ؛ میرٹھ پولیس کی تحقیقات میں سنگھ پریوار کے رہنما کی سازش بے نقاب

دو مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے خاتون کے اغوا کا ڈرامہ؛ میرٹھ پولیس کی تحقیقات میں سنگھ پریوار کے رہنما کی سازش بے نقاب

Tue, 02 Jun 2026 14:36:00    S O News
دو مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے لیے خاتون کے اغوا کا ڈرامہ؛ میرٹھ پولیس کی تحقیقات میں سنگھ پریوار کے رہنما کی سازش بے نقاب

میرٹھ، 2 جون (ایس او نیوز): اترپردیش کے میرٹھ ضلع میں ایک مبینہ اغوا اور چھیڑ چھاڑ کے معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پورا واقعہ دو مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ پولیس کے مطابق ایک ہندو تنظیم سے وابستہ شخص نے یہ سازش رچی تھی، جبکہ خاتون کے اغوا اور ہراسانی کی کہانی بھی من گھڑت نکلی۔ 

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک شخص، جس کی شناخت نکُول سنگھ کے طور پر کی گئی ہے، نے پولیس کو اطلاع دی کہ دو مسلم نوجوان، ذیشان اور شاوِز، ایک ہندو خاتون کو اغوا کرکے گاڑی میں لے جا رہے ہیں۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ دونوں نوجوان خاتون کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور خاتون بے ہوش حالت میں سڑک کنارے پڑی ہوئی ہے۔

اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، خاتون کو اسپتال منتقل کیا اور دونوں مسلم نوجوانوں ذیشان اور شاوِز کو حراست میں لے کر ان کی گاڑی ضبط کرلی۔ ابتدائی طور پر معاملہ سنگین نوعیت کا محسوس ہوا، لیکن تفتیش آگے بڑھنے پر کئی تضادات سامنے آئے جس کے بعد پولیس نے واقعے کی گہرائی سے جانچ شروع کی۔

میرٹھ پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ خاتون درحقیقت اغوا نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی جرم پیش آیا تھا۔ تفتیشی افسران کے مطابق نکُل سنگھ نے دانستہ طور پر ایک منصوبہ تیار کیا تھا تاکہ ذیشان اور شاوِز کو ایک مجرمانہ کیس میں پھنسایا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پورا واقعہ پہلے سے طے شدہ تھا اور خاتون بھی اس منصوبے کا حصہ تھی۔

پولیس کے مطابق سازش کے مرکزی ملزم نکُل سنگھ واقعے کے بعد فرار ہوگیا ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس معاملے نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ ابتدائی الزامات نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا تھا۔ تاہم پولیس کی تحقیقات کے بعد واضح ہوا کہ دو مسلم نوجوانوں کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد تھے اور انہیں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بعض صارفین اور کارکنان نے ملزم نکُل سنگھ کا تعلق سنگھ پریوار کی تنظیموں، خصوصاً بجرنگ دل، سے جوڑا ہے.


Share: