بنگلورو ، 4/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ریاستی حکومت نے بنگلورو کے فن، ثقافت، ادب، موسیقی، کھیل، روایات اور شہری زندگی کو اجاگر کرنے کے مقصد سے 4 سے 13 دسمبر تک 10 روزہ ’’بنگلورو جاترے‘‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریٹر بنگلورو ترقی کے وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے بتایا کہ اس دوران شہر بھر میں 300 سے زائد مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے مرکزی دفتر میں ’’بنگلورو جاترے‘‘ کے انعقاد سے متعلق اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف سڑکوں، پانی، ٹریفک اور دیگر بنیادی سہولتوں کی ترقی تک محدود نہیں ہے، بلکہ شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے فن، ثقافت، ادب، موسیقی، کھیل اور شہر کی تاریخی و ثقافتی روایات سے عوام کو جوڑنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی تیز رفتار اور مصروف شہری زندگی میں لوگوں کو ایک دوسرے سے جڑنے اور اپنی ثقافت سے وابستہ ہونے کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے پہلی مرتبہ ’’بنگلورو جاترے‘‘ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ یہ محض حکومت کی جانب سے منعقد کیا جانے والا ایک پروگرام نہیں ہوگا بلکہ شہر کے شہریوں، مختلف اداروں، فنکاروں، تعلیمی اداروں، کاروباری تنظیموں اور سماجی اداروں کی شراکت سے منعقد ہونے والی شہر گیر تقریبات کا سلسلہ ہوگا۔
کرشنا بائرے گوڈا نے بتایا کہ ’’فریڈم ہبہ‘‘ کے انعقاد کے بعد اس نوعیت کی عوامی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مثبت ردعمل سامنے آیا تھا۔ 15 اگست کو منعقدہ اس پروگرام کے دوران شہریوں کو بڑی تعداد میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ اسی تجربے کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ ڈی. کے. شیوکمار نے دسمبر میں بنگلورو کے لیے بڑے پیمانے پر ثقافتی جشن منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اب ’’بنگلورو جاترے‘‘ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی روایتی ’’اُور ہبہ‘‘ اور جاترے کی طرز پر اس پروگرام کا مقصد پورے شہر کو جشن کا حصہ بنانا ہے۔ اس کے لیے کوئی ایک مخصوص میدان یا مرکزی مقام مقرر نہیں ہوگا بلکہ سڑکوں، پارکوں، عوامی مقامات، محلوں، تعلیمی اداروں، عجائب گھروں، ثقافتی مراکز، میٹرو اسٹیشنوں اور دیگر اداروں میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
وزیر نے کہا کہ بنگلورو پہلے ہی ٹیکنالوجی اور معاشی سرگرمیوں کے میدان میں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ شہر فن، ادب، ثقافت اور طرز زندگی کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں مرکز بنے۔ حکومت کا مقصد فنکاروں کو مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی اور لوک ثقافت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے عوامی سطح پر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
’’بنگلورو جاترے‘‘ کے لیے گریٹر بنگلورو اتھارٹی کو مرکزی رابطہ ادارے کے طور پر ذمہ داری دی جائے گی۔ اس کے ساتھ میٹرو، پولیس، بنگلورو آبی سربراہ ادارہ، بنگلورو ترقیاتی ادارہ، بجلی کی تقسیم کا ادارہ، محکمہ فائر سروسز اور محکمہ کنڑ و ثقافت سمیت مختلف سرکاری ادارے مل کر کام کریں گے۔
گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت آنے والی 5 شہری بلدیاتی اداروں کے تعاون سے سڑکوں، پارکوں، کھیل کے میدانوں اور دیگر عوامی مقامات پر مقامی ثقافتی پروگرام، موسیقی، فنون کی نمائش، بچوں کی سرگرمیاں اور شہری سطح کی تقریبات منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر نے بتایا کہ شہر کی مختلف نجی کمپنیاں، تعلیمی ادارے، فنون کی نمائش گاہیں، سرکاری شعبے کے ادارے اور ہوٹلوں سے وابستہ تنظیموں کو بھی اس جشن میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔ ان اداروں سے اپنے اپنے مقامات پر ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کی اپیل کی جائے گی۔
بنگلورو کے قدیم علاقوں اور روایتی محلوں میں مقامی ’’اُور ہبہ‘‘ منعقد کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ہوٹلوں کی تنظیموں کے تعاون سے کرناٹک کے مختلف علاقوں کے روایتی کھانوں سے عوام کو متعارف کرانے کے لیے خصوصی کھانے کے میلوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں مقامی ثقافت اور روایات کو اجاگر کرنے کے لیے مقامی تنظیموں اور شہری گروپوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ رہائشی بہبود تنظیمیں، غیر سرکاری ادارے، سماجی تنظیمیں اور کارپوریٹ ادارے بھی اپنے اپنے علاقوں اور احاطوں میں مختلف پروگرام منعقد کرسکیں گے۔
میٹرو اسٹیشنوں کے احاطوں میں موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کے امکانات تلاش کیے جارہے ہیں۔ شہری بسوں کو بھی ’’بنگلورو جاترے‘‘ کی تشہیر کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ آبی ادارے کی عمارتوں اور پانی کی ٹنکیوں سمیت بعض عوامی بنیادی ڈھانچوں کو بھی فن اور شہری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کے ثقافتی پروگرام، فنون کی نمائش، سائنس اور اختراع سے متعلق نمائشیں، موسیقی اور رقص کے پروگرام منعقد کیے جاسکیں گے۔ شہر کے اہم تعلیمی اور ثقافتی اداروں، عجائب گھروں، فنون کے مراکز اور سائنس سے متعلق اداروں کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
ثقافتی اور فنون سے وابستہ مختلف اداروں کو اپنے اپنے پروگرام ’’بنگلورو جاترے‘‘ کے مجموعی پروگرام کیلنڈر کے تحت منعقد کرنے کی اجازت ہوگی۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے ثقافتی ٹیموں کو بھی بنگلورو مدعو کرنے کے لیے متعلقہ ریاستی حکومتوں سے رابطہ کیا جائے گا۔
کرشنا بائرے گوڈا کے مطابق 10 روزہ جاترے کے دوران 300 سے زائد فن، ادب، موسیقی، تھیٹر، ماحولیات اور کھیل سے متعلق پروگرام منعقد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات کو بھی پروگراموں میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پروگراموں میں عوام سے کوئی داخلہ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ بڑے پروگراموں کے لیے ویب سائٹ کے ذریعے پیشگی اندراج کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ چھوٹے پروگراموں میں براہ راست شرکت کی اجازت ہوگی۔
ایک خصوصی ویب سائٹ کے ذریعے ہر پروگرام کے مقام، تاریخ اور وقت کی تفصیلات پہلے ہی عوام کے لیے دستیاب کرائی جائیں گی۔ تمام پروگراموں کو ایک مشترکہ کیلنڈر کے تحت مربوط کیا جائے گا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں روزانہ پروگرام منعقد ہونے کے ساتھ ساتھ مرکزی شہر میں بھی اہم پروگراموں کا اہتمام کیا جائے گا۔ 13 دسمبر کو 10 روزہ ’’بنگلورو جاترے‘‘ کی اختتامی تقریب بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس منصوبے پر تقریباً 15 سے 20 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ محکمہ کنڑ و ثقافت کے بجٹ میں مختص 5 کروڑ روپے کے علاوہ 5 شہری بلدیاتی اداروں کی جانب سے فی ادارہ 1 کروڑ روپے فراہم کیے جانے کی تجویز ہے۔ باقی رقم میٹرو، بجلی، آبی سربراہ ادارے اور بنگلورو ترقیاتی ادارے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
وزیر نے کہا کہ شہریوں اور ٹریفک کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، اس کے لیے ضروری احتیاطی انتظامات کیے جائیں گے۔ بڑے پروگراموں کے لیے ٹریفک پولیس اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مشاورت کرکے انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ چھوٹے پروگراموں کے لیے بھی ضروری سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے چیف کمشنر مہیشور راؤ، میٹرو کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر پی. سی. جعفر، آبی سربراہ ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر منجولا، محکمہ تعلیم کے کمشنر سورولکر وکاس کشور، بجلی کی تقسیم کے ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر شیو شنکر، ٹریفک پولیس کے جوائنٹ کمشنر کارتک ریڈی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔