ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ادھو اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں ممبئی میں ای سی آئی کے خلاف ترنگا ریلی، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ

ادھو اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں ممبئی میں ای سی آئی کے خلاف ترنگا ریلی، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ

Sun, 04 Oct 2026 18:49:49    S O News

ممبئی، 4/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ممبئی میں شیو سینا (یو بی ٹی) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے اتوار کو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف مشترکہ طور پر ترنگا ریلی کا اہتمام کیا، پارٹی کےجھنڈے کے بغیر ہزاروں کارکن ترنگا لئے سڑکوں پر اترے، اس موقع پر متعدد لیڈران نے عوام سے خطاب کیا۔

جیسے ہی شیو سینا (یو بی ٹی) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے اتوار کو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف سڑکوں پر قدم رکھا، ان کا مطالبہ بلند اور واضح تھا: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ای سی آئی جیسا خود مختار ادارہ حکمران بی جے پی کے لیے ایک آسان ہتھیار نہیں بن سکتا۔ ادھو اور راج ٹھاکرے کی قیادت میں مشترکہ ریلی اتوار کی صبح بائیکلہ میں رچرڈسن اینڈ کرڈاس سے شروع ہوئی اور سی ایس ایم ٹی میں بی ایم سی ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھی۔ نہ تو کسی پارٹی کا جھنڈا اور نہ ہی نشان دکھایا گیا۔ دونوں لیڈروں نے اپنے کارکنوں سے صرف ترنگا لے جانے کو کہا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن اپنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن آف الیکٹورل رولز پر تنقید کی زد میں ہے، جو بہار میں جون۲۰۲۵ء میں شروع ہوئی تھی اور۳۰؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسودہ فہرستوں سے۱۳؍ کروڑ سے زیادہ نام نکال چکی ہے، کروڑوں رائے دہندگان کو نوٹس جاری کیے گئے اور فہرست میں رہنے کے لیے دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا۔ مہاراشٹر میں،۳۱؍ اگست کے مسودے میں۲؍ کروڑ ۷؍ لاکھ رائےدہندگان کے فارم جمع نہیں کیے گئے تھے۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے اسے ’’ووٹ چوری‘‘ قرار دیا ہے۔ گزشتہ ماہ دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ کمیشن کے تین اراکین میں سے دو، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے۱۰؍ ماہ میں کم از کم ۱۴؍ بار ان فیصلوں پر اعتراض درج کیا تھا جو ان کے علم کے بغیر کمیشن کے نام پر لیے گئے تھے، نئے رائے دہنگان کے بھرے جانے والے فارم پر، ہر رول رکھنے والے سافٹ ویئر پر، اور مغربی بنگال میں بحال شدہ ووٹرز کے خلاف دائر لاکھوں اپیلوں پر۔تاہم گزشتہ ہفتے۲۰؍ ریاستوں میںچھوڑے گئے رائے دہنگان کو واپس لانے کے لیے ایک خصوصی مہم کا حکم دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور اس کے سربراہ گیانیش کمار کے خلاف منعقد اس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرےنے کہا، ’’کوئی انفرادی جھنڈے نہیں۔ صرف ترنگا۔ ایجنڈا صرف الیکشن کمیشن آف انڈیا( ای سی آئی) اور اس کا کام ہے۔ اس لیے بی جے پی سمیت کوئی بھی اس مسئلے پر ریلی میں آ کر شامل ہو سکتا ہے۔‘‘اس سے قبل سی جے پی نے جمعہ ۲؍ اکتوبر کو اسی موضوع پر ریلی کا اہتمام کیا تھا، جس کی راج ٹھاکرے نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اس ریلی سے ادھو ٹھاکرے نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا، ’’ہر کوئی اپنے انداز میں مسئلہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ایجنڈا ایک ہے۔‘‘ مزید برآں این سی پی (ایس پی) نے بھی اس ریلی کی حمایت کا عہد کیا ہے۔ اس کی ورکنگ صدر سپریا سلے نے کہا، ’’ہم شیو سینا (یو بی ٹی) / ایم این ایس کی مشترکہ ریلی کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ادھو کے لیے، ای سی آئی کے ساتھ لڑائی ذاتی ہے۔ جون۲۰۲۲ء میں، ایکناتھ شندے کی قیادت میں بغاوت نے ان کے والد بال ٹھاکرے کی قائم کردہ پارٹی کو تقسیم کر دیا۔ فروری ۲۰۲۳ء میں، ای سی آئی نے شیو سینا کا نام اور اس کا تیر کمان کا نشان باغی شندے دھڑے کو دے دیا۔ ادھو نے ای سی آئی کے کردار پر سخت سوال اٹھایا، اور اپنے والد کے تصور کردہ نام اور نشان کو کھونے پر غصہ اور تکلیف  کا اظہار کیا۔


Share: