بھٹکل، 21 مئی (ایس او نیوز): ہندوستان بھر میں گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک نئی، غیرمعمولی اور طنزیہ سیاسی تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی” (Cockroach Janta Party - CJP) تیزی سے موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ بظاہر ایک “میم پارٹی” کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب ملک کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں، مایوس طلبہ اور سوشل میڈیا صارفین کی آواز بنتی جارہی ہے۔
اگرچہ یہ کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں، لیکن چند ہی دنوں میں اس نے انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر کروڑوں فالوورز حاصل کرکے روایتی سیاسی جماعتوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ “کاکروچ جنتا پارٹی” اب محض مذاق یا انٹرنیٹ ٹرینڈ نہیں رہی، بلکہ یہ نوجوانوں کی بے روزگاری، مہنگائی، سیاسی مایوسی، اداروں پر عدم اعتماد اور “ڈیجیٹل احتجاج” کی نئی علامت بنتی جارہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرس سمیت متعدد قومی و عالمی میڈیا اداروں نے اس تحریک کو ہندوستان میں “Gen Z Digital Political Awakening” یعنی نوجوانوں کی نئی ڈیجیٹل سیاسی بیداری قرار دیا ہے۔ رائٹرس کے مطابق یہ تحریک نوجوان طبقے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی بے چینی کا اظہار ہے، جبکہ اس نے ایسے نوجوانوں کو ایک نئی علامتی شناخت دی ہے جو خود کو موجودہ سیاسی نظام میں نظرانداز محسوس کرتے ہیں۔
اس تحریک کی بنیاد ہندوستانی سیاسی کمیونیکیشن اسٹریٹیجسٹ ابھیجیت ڈپکے نے رکھی، جو اس وقت امریکہ کے شہر بوسٹن میں پبلک ریلیشنز کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اس سے قبل اروند کجریوال کی پارٹی عام آدمی پارٹی کے سوشل میڈیا ونگ سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔
پارٹی وجود میں کیسے آئی؟
اس تحریک کی شروعات دراصل سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت کے ایک متنازعہ تبصرے کے بعد ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کے تعلق سے گفتگو کے دوران “کاکروچ” جیسا لفظ استعمال کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔
اسی تناظر میں “کاکروچ” کی اصطلاح کو طنزیہ مزاحمتی علامت بناتے ہوئے “کاکروچ جنتا پارٹی” وجود میں لائی گئی۔ پارٹی کے مطابق کاکروچ ایسی مخلوق ہے جو انتہائی مشکل حالات میں بھی زندہ رہتی ہے۔ پارٹی کا نعرہ ہے: “They tried to step on us. We came back.” یعنی “انہوں نے ہمیں کچلنے کی کوشش کی، لیکن ہم پھر واپس آگئے۔”
پارٹی کا مقصد کیا ہے؟
ابتدا میں اسے محض ایک “میم” یا سیاسی مذاق سمجھا گیا، مگر چند ہی دنوں میں یہ تحریک نوجوانوں کی بے چینی، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی بحران اور سیاسی مایوسی کی علامت بن گئی۔
پارٹی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز کے مطابق اس کے اہم مقاصد میں:
بے روزگار نوجوانوں کی آواز بننا، حکومت اور نظام پر طنزیہ انداز میں تنقید، اظہارِ رائے اور میڈیا آزادی کی حمایت، نیٹ جیسے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مہم، نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا کرنا اور “میم کلچر” کو احتجاجی ہتھیار بنانا شامل ہیں۔
پارٹی کا ایجنڈا کیا ہے؟
مختلف رپورٹس کے مطابق پارٹی نے ایک طنزیہ مگر سنجیدہ منشور بھی جاری کیا ہے، جس میں نوجوانوں کو روزگار، تعلیمی نظام میں شفافیت، عدالتی و انتخابی اصلاحات، میڈیا آزادی، کارپوریٹ اثر و رسوخ میں کمی، مہنگائی پر قابو اور حکومت کی جوابدہی جیسے نکات شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے “2029 ایجنڈا” کے نام سے پانچ نکاتی پروگرام بھی تیار کیا ہے۔
حیران کن مقبولیت
اس تحریک کی سب سے حیران کن بات اس کی غیرمعمولی مقبولیت ہے۔ صرف چند دنوں میں پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئے۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس کے فالوورز کی تعداد 20 ملین تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انسٹاگرام پر اس نے بی جے پی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی میں رجسٹریشن کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے، جبکہ تقریباً 70 فیصد حمایتیوں کی عمر 19 سے 25 سال کے درمیان بتائی جارہی ہے۔
آزاد صحافی اور تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی میڈیا اس تحریک کو “Satirical Protest” یعنی طنزیہ احتجاج اور “Digital Rebellion” یعنی ڈیجیٹل بغاوت قرار دے رہا ہے۔
معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے خلاف استعمال کی گئی زبان ملک میں بڑھتے تعصب اور مایوسی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں نوجوان بیداری کی ایک نئی لہر محسوس کی جارہی ہے۔ مشہور یوٹیوبر اور سیاسی مبصر میگھناد نے کہا: “یہ صرف مذاق نہیں رہا، بلکہ لوگ متبادل سیاسی تجربات تلاش کررہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ نوجوان روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوچکے ہیں، اسی لئے ایک طنزیہ پارٹی بھی انہیں موجودہ سیاسی حقیقت سے زیادہ حقیقی محسوس ہورہی ہے۔ ریٹائرڈ بیوروکریٹ اشیش جوشی کے مطابق: “ملک میں خوف کا ماحول ہے، اور کاکروچ جنتا پارٹی تازہ ہوا کے جھونکے جیسی محسوس ہورہی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کاکروچ” دراصل بقا کی علامت بن چکا ہے، اور نوجوان اسی علامت کو مزاحمتی شناخت کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔
دلچسپ ممبرشپ شرائط
پارٹی کی ممبرشپ شرائط بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہیں۔ طنزیہ انداز میں کہا گیا ہے کہ رکن کیلئے اولین شرط بے روزگار ہونا ہے، ساتھ ساتھ Lazy ہونا، ، ہمیشہ آن لائن رہنا اور Professional Ranting کی صلاحیت رکھنا بھی ضروری ہے۔
“ڈیجیٹل سنسرشپ” کا الزام
کہا جارہا ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں نوجوانوں کے اس تحریک سے جڑنے کے بعد مرکزی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی کے X (ٹوئٹر) اکاؤنٹ کو محدود کیا گیا، جبکہ انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوششوں کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
کون کون اس تحریک کے ساتھ؟
اطلاعات کے مطابق مہوا موئترا، کیرتی آزاد سمیت کئی سیاسی رہنما، صحافی، یوٹیوبرز اور سماجی کارکن اس تحریک کو فالو کررہے ہیں یا اس پر تبصرہ کرچکے ہیں۔
فی الحال یہ ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک طنزیہ ڈیجیٹل تحریک ہے، تاہم بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں اس کے کچھ حامی عملی سیاست اور انتخابات میں حصہ لینے پر بھی غور کررہے ہیں۔
کیا یہ حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق “کاکروچ جنتا پارٹی” اس بات کا اشارہ ہے کہ ہندوستان کا نوجوان طبقہ اب روایتی سیاسی بیانیے سے اکتا چکا ہے اور وہ طنز، میمز اور ڈیجیٹل کلچر کے ذریعے اپنی ناراضگی ظاہر کررہا ہے۔ اگر یہ تحریک اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ محض ایک میم پارٹی نہ رہے، بلکہ نوجوانوں کے ایک بڑے سیاسی و سماجی دباؤ کی شکل اختیار کرلے۔