بنگلورو، 3 اگست (ایس او نیوز) : کرناٹک میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں طویل انتظار کے بعد پیر کی شام ریاستی کابینہ کی توسیع عمل میں آگئی، تاہم آخری لمحے میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلی نے پورے عمل کو نیا رخ دے دیا۔اگرچہ کانگریس ہائی کمان نے 20 نئے وزراء کے ناموں کی منظوری دے دی تھی، لیکن حلف برداری کی تقریب میں صرف 19 ارکان اسمبلی نے وزیر کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ اس طرح کابینہ کی ایک نشست فی الحال خالی رہ گئی۔
بنگلورو کے لوک بھون (گلاس ہاؤس) میں شام پانچ بجے منعقدہ تقریب میں گورنر تھاور چند گہلوت نے نئے وزراء کو حلف دلایا۔ سب سے پہلے آنجہانی سابق وزیر اعلیٰ دھرم سنگھ کے فرزند ڈاکٹر اجئے سنگھ نے حلف لیا، جس کے بعد دیگر وزراء نے باری باری عہدے کا حلف اٹھایا۔
حلف اٹھانے والے 19 وزراء
ڈاکٹر اجئے سنگھ، ایچ۔ سی۔ بالاکرشنا، کے۔ ایس۔ بسونتپا، بسوراج رائریڈی، این۔ چلوورایا سوامی، لکشمن ساودی، مدھو بنگارپا، ایس۔ ایس۔ ملیکارجن، بی۔ ناگیندر، پی۔ ایم۔ نریندر سوامی، سی۔ پُٹّرنگا شیٹی، ٹی۔ رگھو مورتی، رضوان ارشد، رودرپّا لمانی، سنتوش لاڈ، کے۔ ایم۔ شیولنگے گوڑا، شیو راج تنگڈگی، وجیانند کاشپننور اور بی۔ زیڈ۔ ضمیر احمد خان۔
20 رکنی فہرست 19 وزراء تک کیسے محدود ہوئی؟
حلف برداری سے چند گھنٹے قبل آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو باضابطہ خط ارسال کرکے اطلاع دی تھی کہ کانگریس ہائی کمان نے 20 نئے وزراء کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔ اس فہرست میں قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی رکن گایتری شانتے گوڑا کا نام بھی شامل تھا۔
تاہم آخری لمحے میں سیاسی حالات یکسر بدل گئے اور گایتری شانتے گوڑا کو حلف برداری کے لیے وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ نتیجتاً وہ تقریب میں شریک نہیں ہو سکیں اور صرف 19 وزراء نے ہی حلف اٹھایا۔
12 نئے چہروں کو پہلی مرتبہ وزارت
ابتدائی طور پر منظور شدہ فہرست میں 13 نئے چہرے شامل تھے، لیکن گایتری شانتے گوڑا کے اخراج کے بعد پہلی مرتبہ وزیر بننے والوں کی تعداد 12 رہ گئی۔
پہلی مرتبہ وزیر بننے والوں میں:
پی۔ ایم۔ نریندر سوامی (ملاولی)، رودرپّا لمانی (ہاویری)، کے۔ ایس۔ بسونتپا (مایاکونڈا)، ٹی۔ رگھو مورتی (چلّکیرے)، رضوان ارشد (شیواجی نگر)، سی۔ پُٹّرنگا شیٹی (چامراج نگر)، ڈاکٹر اجئے سنگھ (جیورگی)، کے۔ ایم۔ شیولنگے گوڑا (ارسیکیرے)، ایچ۔ سی۔ بالاکرشنا (ماگڑی)، بسوراج رائریڈی (یلبُرگا)، وجیانند کاشپننور (ہنگنڈ)
لکشمن ساودی (اتھنی)۔
خاتون وزیر کے عہدے پر آخری لمحے تک رسہ کشی
سیاسی ذرائع کے مطابق کابینہ میں خاتون نمائندگی کے لیے گایتری شانتے گوڑا، لکشمی ہیبّالکر اور اوماشری کے درمیان آخری لمحے تک سخت رسہ کشی جاری رہی۔ اسی معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی رہائش گاہ پر ایک اہم مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی کانگریس کے بعض سینئر رہنماؤں نے گایتری شانتے گوڑا کا نام واپس لینے پر زور دیا، جس کے بعد کانگریس ہائی کمان نے بھی اس تجویز سے اتفاق کر لیا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ گایتری شانتے گوڑا نے ابھی تک قانون ساز کونسل کی رکن کے طور پر باضابطہ حلف نہیں اٹھایا تھا، اس لیے پارٹی کے اندر اس معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے اور بالآخر ان کا نام واپس لے لیا گیا۔
خواتین کی نمائندگی ختم، سیاسی بحث تیز
گایتری شانتے گوڑا کے اخراج کے بعد اس مرتبہ کرناٹک کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر شامل نہیں ہو سکی، جس پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ لکشمی ہیبّالکر کو بھی کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر ان کے حامیوں میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔
اسپیکر اور کونسل کے عہدوں پر بھی اتفاق
وزراء کی فہرست کے ساتھ کانگریس قیادت نے ریاستی مقننہ کے اہم آئینی عہدوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔ جی۔ ایس۔ پاٹل کو اسمبلی اسپیکر، پونّناّ کو ڈپٹی اسپیکر، سلیم احمد کو قانون ساز کونسل کا چیئرمین اور اُماشری کو ڈپٹی چیئرپرسن بنائے جانے پر اتفاق کیا گیا ہے
اُترکنڑا ضلع وزارت سے محروم
کابینہ کی اس توسیع میں اُترکنڑا ضلع کو ایک مرتبہ پھر کوئی نمائندگی نہیں مل سکی۔ ضلع کے کانگریس ارکان اسمبلی، خصوصاً منکال ویدیا، آر۔ وی۔ دیشپانڈے اور ستیش سئیل کے نام وزارت کے لیے زیرِ غور رہے، لیکن آخری فہرست میں کسی کو بھی جگہ نہیں ملی۔ اس فیصلے کے بعد ضلع کے کانگریس کارکنوں اور سیاسی حلقوں میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کابینہ کی توسیع میں علاقائی، سماجی اور سیاسی توازن قائم رکھنے کی کوشش ضرور کی گئی، تاہم آخری لمحے میں منظور شدہ فہرست میں تبدیلی، خواتین کی عدم نمائندگی اور بعض اضلاع کو کابینہ میں جگہ نہ ملنے جیسے عوامل آنے والے دنوں میں کانگریس کے اندر اور باہر سیاسی بحث کا موضوع بن سکتے ہیں۔