ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مردم شماری سے پہلے حد بندی پر ہنگامہ، کانگریس کا خصوصی پارلیمانی اجلاس پر اعتراض

مردم شماری سے پہلے حد بندی پر ہنگامہ، کانگریس کا خصوصی پارلیمانی اجلاس پر اعتراض

Sat, 04 Apr 2026 12:19:54    S O News

نئی دہلی ، 4/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی)  حکومت کے ذریعہ 16 اپریل سے طلب کئے گئے پارلیمنٹ کے سہ روزہ خصوصی اجلاس پر جمعہ کو سخت اعتراض کیا اوراسے ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔  کانگریس  نے الزام لگایا کہ حکومت نے خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم اور لوک  سبھا کی نئی  حلقہ بندی سے متعلق بل پاس کرنے کیلئے ’’خصوصی  اجلاس‘‘ بلایا ہے تاکہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات میں ’’سیاسی فائدہ‘‘ اٹھایا جا سکے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری برائے مواصلات جے رام رمیش نے پارٹی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جلد بازی میں حلقہ بندی کرنے کی کوشش کے ’’خطرناک نتائج‘‘ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ناری شکتی وندن ادھینیم۲۳ء( پارلیمنٹ کی  ۳۳؍ فیصد نشستیں  خواتین  کیلئے مختص کرنےوالا قانون) کی منظوری کے بعد۳۰؍ مہینے تک’’سستی‘‘دکھائی اور اب انتخابی موسم میں’’دوہرا کریڈٹ‘‘ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی حلقہ بندی کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ اطلاع یا تجویز سامنے نہیں آئی۔’’تاہم غیر رسمی طور پر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ لوک سبھا کی نشستوں میں متناسب اضافہ کیا جائے گا۔‘‘ جے رام رمیش  اس کا ذکر بدھ کو اپنے ایک تفصیلی پوسٹ میں بھی کرچکے ہیں۔ جمعہ کو انہوں نے کہا کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ اضافہ متناسب ہوگالیکن حقیقت میں چھوٹی ریاستوں اور جنوبی، شمال مشرقی نیزمغربی علاقوں کو شدید نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق مجوزہ بل کے تحت یوپی کی نشستیں بڑھ کر۱۲۰؍ ہو جائیں گی جبکہ کیرالا کی زیادہ سے زیادہ۳۰؍ تک پہنچیں گی۔ انہوں نے کہاکہ’’جو کچھ ہمیں غیر رسمی طور پر سننےکو ملا ہے وہ کئی ریاستوں کیلئے بہت خطرناک ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ’’اس خصوصی اجلاس کا واحد مقصد تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے انتخابات پر اثر انداز ہونا اور سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔ ‘‘ کانگریس لیڈر نے سوال کیا  کہ کیا خصوصی اجلاس ۱۵؍ دن بعد نہیں بلایا جا سکتا تھا؟ جے رام رمیش نے کہاکہ ’’یہ حکومت’بیانیہ سازی‘ پر کام کرتی ہے۔ سیاسی اور خارجہ پالیسی کے بیانیے میں چونکہ وہ  پچھڑ گئی ہے اس لئے خصوصی اجلاس بلا کر اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے اور۲۹؍ اپریل  کے بعد آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق 16اپریل کو دوبارہ شروع ہونےوالے پارلیمانی اجلاس  میں لوک سبھا کی نشستوں کو۵۴۳؍ سے بڑھا کر۸۱۶؍ کرنے سمیت  ایسے بل پاس کئے جا ئیں گے  جن سے خواتین کے ریزرویشن کو جلد از جلد نافذ کیا جا سکے  جسے مردم شماری کے بعد نافذ ہونا تھا۔  


Share: