ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ہرمز میں دوسری گزرگاہ پر ایران کا سخت انتباہ، امریکی بحری جہازوں کو میزائل حملے کا خطرہ

ہرمز میں دوسری گزرگاہ پر ایران کا سخت انتباہ، امریکی بحری جہازوں کو میزائل حملے کا خطرہ

Tue, 04 Aug 2026 11:00:56    S O News

تہران ، 4/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)  ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے طے شدہ راستے سے الگ کوئی دوسرا راستہ بنانے کی کوشش پر امریکہ کو خبردار کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر اور ایکسپیڈینسی کونسل کے رکن جنرل محسن رضائی نے صاف لفظوں مٰں کہا ہے کہ ’’اگر امریکی جنگی جہاز تعینات کیے گئے تو ایران انہیں نشانہ بنائے گا۔‘‘ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’تہران کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے اور یہ ایران کے لیے بہتر معاہدے تک پہنچنے کا اچھا موقع ہے۔‘‘ حالانکہ ایران نے کسی بھی طے یا چل رہی بات چیت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی اور انتظامی امور پر بات چیت ہو رہی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ’’ہم آبنائے ہرمز میں دوسرا راستہ کھولنے نہیں دیں گے۔ اگر وہ جنگی جہاز تعینات کریں گے، تو انہیں نشانہ بنائیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سپریم لیڈر کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی اپنے رویے تبدیل کریں اور اس کی واضح نشانیاں نظر آئیں۔‘‘ محسن رضائی کے مطابق جیسے ہی امریکہ تقریباً 5 شرائط پر عمل کرے گا، ایران اسے بدلے ہوئے رویے کے طور پر سمجھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کیا ہم سمندری ناکہ بندی برداشت کر سکتے ہیں۔ امریکی جہازوں اور ٹھکانوں کے لیے یقینی طور پر سنگین خطرے ہوں گے۔‘‘ ایرانی نشریات کے دوران دکھائے گئے پیغامات میں کہا گیا کہ ایران اپنے مفادات کی بنیاد پر کام کرتا ہے اور دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوگا۔ ایک پیغام میں مسلح افواج کی تیاریوں پر زور دیے جانے کی بات بھی کہی گئی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’عمان کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے نئے حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ دوسری جانب اوول دفتر میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’بات چیت ابھی جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ آئندہ ایک یا 2 دن میں مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ فریقین ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی فریق کی درخواست پر بات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’’وہ چاہتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کے خدشات کا کوئی حل نکلے۔‘‘ لیکن اس سے قبل پیر کے روز اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’’امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی کسی ملاقات کا وقت طے کیا گیا ہے۔‘‘

اس معاملے میں اسماعیل بقائی نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ’’آنے والے دنوں میں نہ تو ایران کسی غیر ملکی وفد کی میزبانی کرے گا اور نہ ہی اپنے مذاکرات کاروں کو بیرون ملک بھیجے گا۔‘‘ بقائی نے یہ بھی کہا کہ ’’وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ باقی تمام ایرانی مذاکرات کار ملک میں موجود ہیں، جبکہ عراقچی عراق میں مذہبی زیارت پر ہیں۔‘‘ ایک سینئر ایرانی ذرائع نے بھی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ کسی قسم کی بات چیت طے نہیں ہوئی ہے اور عراقچی کم از کم ہفتے کے آخر تک دستیاب نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایرانی قیادت کو حد سے زیادہ دوغلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے ملاقات کی درخواست کی ہے اور مستقبل قریب میں مزید مذاکرات طے ہیں۔‘‘

اپنے بیان میں ٹرمپ نے دوبارہ یہ دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی بحریہ کا مکمل کنٹرول ہے اور امریکہ کی فولادی دیوار موجود ہونے تک ایران تک کوئی بھی چیز اس وقت تک نہیں پہنچے گی، جب تک امریکہ نہ چاہے یا پھر کوئی معاہدہ نہ ہو جائے یا مکمل ہتھیار ڈال نہ دیے جائیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کو 5 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے مال برداری کو معمول پر لانے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا بھر میں تجارت ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔ فی الحال ایک طرف ٹرمپ بات چیت کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ایران امریکی جہازوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دے رہا ہے۔


Share: