نئی دہلی: 4 ؍اگست (ایس او نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نگلہ دیش کی مفرور مصنفہ کی دینی مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے داخلی معاملات میں ایک غیر ملکی کی غیر ذمہ دارانہ مداخلت قرار دیا ہے اور حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی پناہ گزینوں کو ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکے۔
پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ انیس برس بعد ہندوستان واپس آنے والی بنگلہ دیش کی متنازعہ اور مفرور مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کولکاتا میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے یونیفارم سول کوڈ اور دینی مدارس کے بارے میں نہایت اشتعال انگیز، گمراہ کن اور حقائق سے عاری بیانات دیے ہیں۔ اس کا کہ یہ کہنا کہ دینی مدارس انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں یا وہاں سے ’’جہادی‘‘ تیار ہوتے ہیں، صریح بہتان، کھلی کذب بیانی اور ایک پوری مذہبی و تعلیمی روایت کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ ایسے بے بنیاد الزامات نہ صرف کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو بھی پراگندہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایک غیر ملکی، جو خود ہندوستان میں پناہ کی زندگی گزار رہی ہے، اسی ملک کے مذہبی، آئینی اور سماجی معاملات پر نفرت انگیز تبصرے کر رہی ہے۔ ہندوستان کی سرزمین کسی کو آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت پھیلانے، مذہبی اداروں کو بدنام کرنے یا ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔ حکومتِ ہند کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کو واضح طور پر ان کی قانونی حدود کا پابند بنائے اور مستقبل میں اس قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی کی روک تھام کرے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ تسلیمہ نسرین نے بنگلہ دیش کے بارے میں بھی جو زبان استعمال کی ہے، وہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ہندوستان کی متوازن خارجہ پالیسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ ایسے بیانات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو متأثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے حکومتِ ہند کو اس پہلو کا بھی فوری نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف اس نوعیت کی پروپیگنڈا مہم کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں بارہا ایسے الزامات عائد کیے گئے، لیکن آج تک نہ کوئی الزام لگانے والا ایک بھی معتبر ثبوت پیش کر سکا اور نہ ہی ملک کی کسی تحقیقاتی یا سکیورٹی ایجنسی نے ان دعوؤں کی توثیق کی۔ اس کے باوجود دینی مدارس کو بدنام کرنا ایک منظم سیاسی اور نظریاتی مہم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔