تہران ، 8/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے اختیارات کی حفاظت کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کے ملک کے وعدے کو دہرایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران کو سرینڈر کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ پیزشکیان نے یہ باتیں جمعہ کے روز اپنے دفتر کی ویب سائٹ پر جاری ایک انٹرویو میں کہی ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ جب تک امریکہ ’ایم او یو‘ کے تحت اپنے وعدے پورے کرتا ہے، ایران اپنی ذمہ داریوں کے لیے پابند ہے۔ جہاں وہ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہاں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔ اس ہفتے کے آغاز میں پیزشکیان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور کہا ہے کہ وہ پوری مکمل طور پر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ یہ باتیں ’ایم او یو‘ کو لے کر ایرانی قیادت کے درمیان اختلافات کی افواہوں کے درمیان سامنے آئی ہیں۔
ایران اور امریکہ نے جون میں معاہدے کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت فریقین کو حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے 60 دنوں کے اندر بات چیت کرنی تھی۔ حالانکہ دونوں کے درمیان نئی کشیدگی نے بات چیت کے نتائج کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس دوران ایران کی نیم سرکاری ’تسنیم‘ نیوز ایجنسی کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق جمعرات کی رات ایران کے ’ہرمزگان صوبے‘ کے جنوبی کیشم جزیرے پر 2 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایجنسی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر ’دشمن کے اہداف‘ کے خلاف ایرانی مسلح افواج کی کارروائی کی وجہ سے دھماکے ہوئے۔ تسنیم نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دھماکوں کی آوازیں مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9:40 بجے سنی گئیں۔
ایجنسی نے کہا کہ اس تنازعہ میں ایرانی بحریہ کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کیا جائے گا۔ اس میں ’ہرمزگان صوبے‘ کے سیاسی، سیکورٹی اور سماجی امور کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کیشم جزیرے اور صوبائی راجدھانی بندر عباس میں کسی بھی حملے یا واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دھماکوں کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے متعلقہ حکام ضروری تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے سعودی عرب کے ’الحدث نیوز چینل‘ اور ’العربیہ نیوز چینل‘ نے جمعرات کے روز اعلیٰ عہدے دار ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو 60 دنوں کے لیے دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ اس معاہدے کو ابھی ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل سے منظوری ملنا باقی ہے اور چند ہی دنوں میں اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد آبی راستے سے جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع کرنا ہے۔