ترواننتاپورم ، 5/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کیرالہ کی کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف حکومت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بدعنوانی کے دو دہائی پرانے الزامات کی ازسرنو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں ویجی لنس اور اینٹی کرپشن بیورو کو ابتدائی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ الزامات اس وقت کے ہیں جب گیانیش کمار ۲۰۰۶ء میں کیرالہ کے محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے سیکریٹری تھے۔
ریاست کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے ویجی لنس بیورو کے ڈائریکٹر منوج ابراہام کو الزامات کی تحقیقات کرنے اور ضروری قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ کانگریس لیڈر کیژو وینوگوپال کی جانب سے شکایت کئے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ حکومت نے ۲۰۰۶ء میں کرائم برانچ کی جانب سے کی گئی تحقیقات کی رپورٹ بھی طلب کی ہے تاکہ اس معاملے میں قانونی رائے حاصل کی جاسکے۔
الزامات کے مطابق کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے تحت مین سینٹرل روڈ کی توسیع کا کام ایک ہند۔ملائیشیائی تعمیراتی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے کی کوششوں کے باعث کام میں غیر معمولی تاخیر ہوئی اور اخراجات میں اضافہ ہوا، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔ اس منصوبے کے چیف انجینئر لی سی بین نے نومبر ۲۰۰۶ء میں کوالالمپور میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی۔ ان کے مبینہ خودکشی نوٹ میں بھی گیانیش کمار کا نام سامنے آیا تھا۔ تاہم یہ الزامات ہیں، جن کی تحقیقات ابھی ہونا باقی ہیں۔
اس معاملے کے بعد اس وقت کی بائیں بازو کی ایل ڈی ایف حکومت نے ویجی لنس انکوائری کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں گیانیش کمار کو محکمہ تعمیرات عامہ کے سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سابقہ تحقیقات کے نتائج کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس معاملے کو سیاسی اہمیت بھی حاصل ہوگئی ہے، کیونکہ ملک بھر میں کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتیں ایس آئی آر کے عمل پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تحریک چلارہے ہیں۔