ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مدھیہ پردیش میں ہجومی تشدد پر بڑا فیصلہ؛ مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں قتل کے 14 مجرموں کو عمر قید

مدھیہ پردیش میں ہجومی تشدد پر بڑا فیصلہ؛ مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں قتل کے 14 مجرموں کو عمر قید

Sat, 13 Jun 2026 18:21:07    S O News
مدھیہ پردیش میں ہجومی تشدد پر بڑا فیصلہ؛ مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں قتل کے 14 مجرموں کو عمر قید

بھوپال  ، 13 جون(ایس او نیوز /ایجنسی)   مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم کی ایک عدالت نے مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں ایک شخص کے قتل کے مقدمے میں تمام ۱۴؍  ملزمان کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے ایک اہم فیصلہ صادر کیا ہے۔ یہ واقعہ تقریباً چار سال قبل پیش آیا تھا اور اس نے ریاست سمیت ملک بھر میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ یہ فیصلہ سیونی مالوا کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے سنایا۔ عدالت نے مہاراشٹر کے ضلع امراوتی کے باشندے نذیر احمد کے قتل کے مقدمے میں تمام ۱۴؍ ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزمان کو قتل، اقدامِ قتل، فساد، غیر قانونی اجتماع اور غلط طریقے سے راستہ روکنے کے الزامات میں مجرم پایا۔ مقدمے کی سماعت تقریباً تین برس تک جاری رہی، جس کے بعد عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ ۳؍ اگست ۲۰۲۲ء کی شب ضلع نرمداپورم کے سیونی مالوا علاقے کے بارکھڈ گاؤں کے قریب پیش آیا۔ مہاراشٹر سے مویشی لے جانے والا ایک ٹرک رات تقریباً ایک بجے گزر رہا تھا کہ لوگوں کے ایک گروپ نے اسے روک لیا۔ پولیس کے مطابق ہجوم کو شبہ تھا کہ ٹرک میں مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل کی جا رہی ہے۔ اسی شبہ کی بنیاد پر ٹرک میں سوار افراد پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے دوران نذیر احمد شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ٹرک میں سوار دو دیگر افراد حملے میں زخمی ہوئے لیکن زندہ بچ گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی اور مختلف شواہد کی بنیاد پر ۱۴؍ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مقدمے کے دوران ٹرک ڈرائیور شیخ لالہ، جو حملے میں زندہ بچ گئے تھے، نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایک بڑے ہجوم نے گاڑی کا راستہ روکا اور بغیر کسی پیشگی سوال یا انتباہ کے حملہ کر دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’تقریباً ۵۰؍ سے ۶۰؍  افراد نے سڑک بند کر دی اور بغیر کوئی سوال پوچھے ہمیں مارنا شروع کر دیا۔‘‘ شیخ لالہ کے مطابق حملہ آوروں نے لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں کا استعمال کیا اور کافی دیر تک تشدد جاری رکھا، جس سے وہ اور ان کے ساتھی شدید زخمی ہو گئے۔ تفتیش کے دوران واقعے کا ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آیا تھا جس میں مبینہ طور پر ہجوم کے بعض افراد متاثرین پر تشدد کرتے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ رپورٹس کے مطابق کچھ مقامی افراد کی مداخلت کے باعث دو زخمی افراد کی جان بچ سکی تھی۔

عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احاطے کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ پولیس جب سزا یافتہ افراد کو جیل منتقل کرنے لگی تو ان کے اہلِ خانہ نے احتجاج کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض رشتہ دار پولیس گاڑی کے سامنے لیٹ گئے اور منتقلی روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور اہلِ خانہ کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔ ملزمان کے رشتہ داروں نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے عزیز مویشیوں کے تحفظ کے لیے موقع پر پہنچے تھے۔ فیصلے کے بعد بعض اہلِ خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے بچے گائے بچانے گئے تھے، لیکن اب انہیں سزا دی گئی ہے۔‘‘

تاہم عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد، گواہوں کے بیانات اور عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر تمام ۱۴؍ ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں ہجومی تشدد کے مقدمات سے متعلق ایک اہم عدالتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عدالت نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے عمل کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔


Share: