ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو : 2017 میں پولیس کمشنر دفتر کا محاصرہ - تمام101 ملزمین عدالت سے بری

منگلورو : 2017 میں پولیس کمشنر دفتر کا محاصرہ - تمام101 ملزمین عدالت سے بری

Fri, 17 Apr 2026 20:45:34    S O News
منگلورو : 2017 میں پولیس کمشنر دفتر کا محاصرہ - تمام101 ملزمین عدالت سے بری

منگلورو،17/ اپریل (ایس او نیوز) شہر کے پولیس کمشنر دفتر کے باہر 2017 میں پیش آئے  لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین پر پتھراو اور ہنگامہ کرنے کے الزام کے سلسلے میں مقامی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 101 ملزمین کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔

خیال رہے کہ یہ کیس 4 اپریل 2017 کا ہے، جب مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کمشنر کے دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ احتجاج اس الزام سے شروع ہوا تھا کہ پولیس نے احمد قریشی نامی شخص کو قتل کے ایک مقدمے میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا اور اسے عدالت میں پیش کیے بغیر ہی حراستی تشدد کا نشانہ بنایا۔ 
    
پولیس کے مطابق جب احتجاج زور پکڑنے لگا اور حالات کشیدہ ہوئے تو اس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ۔ اس کے بعد پانڈیشور پولیس نے مظاہرین کے خلاف پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کا الزام لگاتے ہوئے تین الگ الگ مقدمات درج کئے ۔ حتمی رپورٹ میں 101 افراد کو نامزد ملزم قرار دیا گیا تھا۔

تین میں سے دو معاملوں کی سماعت سیکینڈ جے ایم ایف سی کورٹ میں ہوئی جبکہ تیسرے کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ہوئی۔

اس مقدمے کی ایک طویل سماعت کے بعد ججوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے خاطر خواہ ثبوت فراہم کرنے میں استغاثہ ناکام رہا ہے۔ نتیجتاً عدالت نے استغاثہ کی طرف سے اس معاملے میں ملوث قرار دئے گئے تمام افراد کو بری کرنے کا حکم دیا۔

'لیکس جیوریس' نامی قانونی ادارے سے تعلق رکھنے والے منگلورو کے وکلاء بشمول آصف بئیکاڈی، مفیدہ رحمان، ارشاد ثقافی مونٹیپاڈو، ایاز چارمڑی، محمد عادل، نشان ایم کے، روبینہ اور انسینا نے عدالت میں ملزمان کی پیروی کی تھی۔


Share: