نئی دہلی، 5/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اتوار (5 اپریل) کو مرکز کے ’وَن اسٹاپ سنٹر‘ (او ایس سی) سے متعلق مسائل کو اٹھایا۔ واضح رہے کہ یہ سنٹر تشدد سے متاثرہ خواتین کو مدد فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کسی کی نہیں سن رہی۔ راہل گاندھی کے مطابق تحفظ محض ایک منصوبہ نہیں ہے، یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’واٹس ایپ چینل‘ پر لکھا کہ ’’خواتین مدد کے لیے دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں، پھر بھی حکومت نے ان دروازوں کو بند کر رکھا ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے سوال اور اس کے جواب کی کاپی پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ میں پوچھا: جب کوئی خاتون تشدد سے بچ کر وَن اسٹاپ سنٹر (او ایس سی) پہنچتی ہے تو اسے مدد کیوں نہیں ملتی، تالا کیوں ملتا ہے؟ اسٹاف کی کمی کیوں ہے؟ ملک بھر کی شکایتیں ان سنی کیوں ہیں؟‘‘ راہل گاندھی کے مطابق حکومت کا جواب تھا ’سب اطمینان بخش‘ ہے۔ اگر سب ’اطمینان بخش‘ ہے تو ’او ایس سی‘ سے متعلق اتنے مسائل کی خبریں کیوں سامنے آ رہی ہیں؟
کانگریس لیڈر راہل گاندھی آگے لکھتے ہیں کہ ’’اگر تحفظ ترجیح ہے تو ہر 5 میں سے 3 خواتین تک مدد اب بھی کیوں نہیں پہنچ پا رہی ہے؟ اور وزارت برائے ترقی خواتین و اطفال کے ہر 100 روپے میں سے صرف 60 پیسے ہی او ایس سی پر کیوں خرچ ہو رہے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’تحفظ کوئی منصوبہ نہیں ہے، بلکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہر بات کو اطمینان بخش کہہ دینا تحفظ فراہم نہیں کرتا، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت کسی بھی نہیں سن رہی ہے۔‘‘