اورنگ آباد، 5/ اگست (ایس او نیوز) دہلی کے جنتر منتر پر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف کامیاب تحریک کے بعد ملک بھر میں نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بننے والی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی دو روزہ اہم حکمتِ عملی میٹنگ بدھ کے روز مہاراشٹرا کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد) میں بانی ابھیجیت دیپکے کی رہائش گاہ پر شروع ہوگئی۔ اس اجلاس میں تنظیم کے مرکزی رہنما، ترجمان، مختلف ریاستوں کے نمائندے اور کور کمیٹی کے ارکان مستقبل کی حکمت عملی، تنظیمی توسیع اور عوامی تحریک کے اگلے مرحلے پر غور کر رہے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ فی الحال CJP باقاعدہ سیاسی جماعت بن کر انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اقتدار حاصل کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ عوام کی جانب سے ایک ایسا قومی "پریشر گروپ" قائم کیا جائے جو حکومتوں، سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو جوابدہ بنائے اور عوامی مسائل پر مؤثر دباؤ ڈالے۔
دیپکے نے کہا کہ جنتر منتر کی تحریک نے یہ ثابت کیا ہے کہ نوجوان متحد ہو کر پرامن انداز میں بھی حکومتوں کو فیصلے لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس تحریک کے بعد عوام، بالخصوص نوجوانوں کی توقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اس لیے اب تنظیم کی ذمہ داریاں بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے متعدد اہم اداروں، جن میں عدلیہ، الیکشن کمیشن، ذرائع ابلاغ اور دیگر آئینی ادارے شامل ہیں، ان پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔ ان کے بقول ایسے حالات میں صرف نئی سیاسی جماعت بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ایک مضبوط عوامی تحریک اور مستقل عوامی دباؤ ہی اداروں کی غیر جانبداری اور جوابدہی کو بحال کر سکتا ہے۔
تنظیم کی ملک گیر توسیع پر غور: دو روزہ اجلاس میں تنظیم کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، مختلف ریاستوں میں ریاستی اور ضلعی سطح کی کمیٹیاں قائم کرنے، نوجوانوں اور طلبہ سے براہ راست رابطہ بڑھانے، اور ملک گیر عوامی مہم شروع کرنے پر بھی تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک بھر سے موصول ہونے والی تجاویز اور فیڈ بیک کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
جھارکھنڈ کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی: ابھیجیت دیپکے نے جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی بھی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ خود جھارکھنڈ جا کر طلبہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ان کی جائز لڑائی میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔
دو روز بعد اہم اعلان متوقع: سی جے پی کی یہ حکمتِ عملی میٹنگ 5 اور 6 اگست تک جاری رہے گی۔ اجلاس کے اختتام پر ابھیجیت دیپکے اور دیگر مرکزی رہنما ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے تنظیم کے آئندہ پروگرام، ملک گیر مہم، تنظیمی ڈھانچے اور مستقبل کے فیصلوں کا باضابطہ اعلان کریں گے۔