ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یو پی آئی ادائیگی پر فیس کی تجویز، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ: ’عوام کی جیب کاٹنے کی تیاری‘

یو پی آئی ادائیگی پر فیس کی تجویز، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ: ’عوام کی جیب کاٹنے کی تیاری‘

Wed, 05 Aug 2026 17:50:28    S O News

نئی دہلی  ، 5/ اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)مرکز کی مودی حکومت نے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کو فروغ دینے کے لیے خوب اشتہار دیے اور عوام سے اپیل کی کہ نقد کی جگہ یو پی آئی میں پیسوں کی لین دین کریں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ یو پی آئی سے پیمنٹ کرنے پر فیس لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ خبر سامنے آتے ہی کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مودی نے آپ کی جیب کاٹنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔‘‘

یہ تبصرہ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے عوام سے کہا ہے کہ ’’جلد ہی آپ سے 2000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی پیمنٹ پر وصولی کی جا سکتی ہے۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے ہندی نیوز پورٹل ’خبر گاؤں‘ کی ایک خبر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے۔ اس خبر کی سرخی ہے ’مفت نہیں رہ جائے گا یو پی آئی؟ 2000 سے اوپر کے لین دین پر پیسے وصولنے کی تیاری‘۔ ضمنی سرخی میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’’وزیر مالیات نے پارلیمنٹ میں ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے بعد بحث شروع ہو گئی ہے کہ یو پی آئی لین دین پر اب اضافی پیسے بھی دینے پڑ سکتے ہیں۔‘‘

اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کی گئی اس پوسٹ میں کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر عوام کی پریشانیوں سے منھ پھیرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’لوگ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، لیکن نریندر مودی کو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ نئے نئے منصوبے لا کر آپ کی پائی پائی نچوڑ لینا چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’مودی کا فنڈا صاف ہے: عوام مرتے رہے-وصولی چلتی رہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ڈیجیٹل پیمنٹ کی سب سے بڑی خوبی ابھی تک یہ بتائی جاتی تھی کہ اس کے لیے کوئی اضافی فیس نہیں لگتی۔ اب کچھ کمپنیوں نے پیسے لینے کی شروعات کر دی ہے، لیکن یو پی آئی کے ذریعہ لین دین اب بھی مفت ہے۔ حالانکہ یہ مفت لین دین بھی اب زیادہ دن تک رہنے والی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت یو پی آئی لین دین پر 0.25 فیصد سے 0.4 فیصد کا مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) وصول کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ ساتھ ہی امکان ہے کہ 2000 روپے سے زیادہ کی پیمنٹ پر 5 فیصد کی فیس لگائی جا سکتی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ اگر آپ کسی کاروباری کو 2000 روپے بھیجتے ہیں تو آپ کو 100 روپے اضافی یعنی مجموعی طور پر 2100 روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔

اب تک کی تجویز کے مطابق ایک شخص سے دوسرے شخص کو بھیجے گئے پیسوں کے لیے یہ فیس نافذ نہیں ہوگی۔ یعنی اگر آپ کسی دکان پر پیمنٹ کریں گے تو پیسے لگیں گے، لیکن اگر آپ کسی دوست، رشتہ دار یا دیگر فرد کو پیسے بھیجیں گے تو پیسے نہیں دینے ہوں گے۔ اس کے سلسلے میں وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے ’دی ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز (امینڈمنٹ) بل 2007‘ میں تبدیلی کی جانی ہے۔ مجوزہ ترامیم کے ذریعہ بینکوں اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرس کے پیسے وصولنے پر لگی روک ہٹائی جانی ہے۔ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کب سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔


Share: