ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آر ایس ایس اپنی قانونی حیثیت اور مالی تفصیلات عوام کے سامنے لائے: پریانک کھرگے

آر ایس ایس اپنی قانونی حیثیت اور مالی تفصیلات عوام کے سامنے لائے: پریانک کھرگے

Wed, 17 Jun 2026 12:22:10    S O News
آر ایس ایس اپنی قانونی حیثیت اور مالی تفصیلات عوام کے سامنے لائے: پریانک کھرگے

بنگلورو ، 17/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی اہم تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اپنی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اپنی قانونی حیثیت واضح کرے اور اپنی مالی سرگرمیوں میں مکمل شفافیت اختیار کرتے ہوئے تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے۔

نئی دہلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے کہا کہ انہوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آئینِ ہند کے دائرے میں کام کرنے والی کوئی بھی تنظیم قانونی نگرانی اور عوامی جوابدہی سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک بھر میں 60 ہزار سے زائد روزانہ شاخیں اور کروڑوں رضاکار رکھنے والی اتنی بڑی تنظیم آخر کس قانونی بنیاد پر باضابطہ رجسٹریشن کے بغیر وسیع پیمانے پر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت ہر ادارے اور تنظیم کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ جب عام شہری، مزدور یونینیں، غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز)، ٹرسٹ اور کمپنیاں حکومتی ضوابط کے مطابق رجسٹریشن کراتی ہیں اور اپنی آمدنی و اخراجات کی تفصیلات پیش کرتی ہیں تو پھر آر ایس ایس کو اس سے استثنا کیوں حاصل ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تنظیم کی مجموعی جائیداد، عطیات کے ذرائع، مالی اخراجات اور ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق مکمل معلومات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔

پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کی اپنی سالانہ نمائندہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف کرناٹک میں ہی تنظیم کی 4,127 روزانہ شاخیں، 1,389 ہفتہ وار اجلاس اور 60 ماہانہ نشستیں منعقد ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ 500 سے زائد پاتھ سنچلن (مارچ پاسٹ) اور لاکھوں افراد کی شرکت والے سماجی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی سطح پر عوامی اجتماعات اور وردی پوش مارچوں کو کسی بھی صورت میں "غیر رسمی" یا "نجی سرگرمی" قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے ان پروگراموں کے لیے حاصل کی جانے والی انتظامی اور قانونی منظوریوں کی تفصیلات بھی منظر عام پر آنی چاہئیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ آر ایس ایس کو اپنی صد سالہ تقریبات کو محض جشن تک محدود رکھنے کے بجائے خود احتسابی کا موقع سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر تنظیم اپنے قیام کے سو برس مکمل ہونے پر باضابطہ رجسٹریشن کراتی ہے اور شفاف طریقے سے کام کرنے کا عہد کرتی ہے تو یہی ملک کے لیے اس کا سب سے بڑا تحفہ ہوگا۔

پریانک کھرگے نے اپنی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ جمہوری نظام میں کوئی بھی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے اور اتنی بڑی تنظیم کی عوامی جوابدہی، مالی شفافیت اور ملکی قوانین کی پاسداری کے بارے میں سوال اٹھانا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔


Share: