بنگلورو ، 4/ جون (ایس او نیوز / ایجنسی) ریاست کرناٹک کے نو منتخب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے حلف برداری کے فوراً بعد منعقدہ اپنی پہلی کابینہ میٹنگ میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ، نوجوانوں، دیہی علاقوں اور شہری عوام کے لیے چھ بڑی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست بھر کے اسکول اور کالج طلبہ کو مفت بس پاس فراہم کیا جائے گا، جس سے خصوصاً دور دراز علاقوں سے تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے ریاست میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے سڑکوں کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر دو ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
کابینہ کے فیصلوں کے مطابق ڈھائی ہزار مربع فٹ تک کے مکانات کے لیے بعض ضروری منظوریوں میں رعایت دی جائے گی، جس سے عام شہریوں کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔
نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے ریاست میں نجی روزگار رہنمائی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں روزگار کے متلاشی افراد کو مختلف نجی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے رہنمائی اور سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید اعلان کیا کہ ہر گرام پنچایت میں نوجوانوں کی تنظیموں کے قیام کے لیے دس ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو سماجی اور قومی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک صرف بنگلورو تک محدود بی کھاتہ سے اے کھاتہ میں تبدیلی کی سہولت کو ریاست بھر میں توسیع دی جائے گی، جس سے جائیداد مالکان کو قانونی اور انتظامی معاملات میں آسانی حاصل ہوگی۔
کابینہ اجلاس کے بعد ودھان سودھا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاست کے عوام نے ان پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ اس اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ریاست کی ترقی، کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں اور مختلف طبقات کی فلاح کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، جس پر اب عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ عہدہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ریاست کے عوام کی امانت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے تمام فیصلے اجتماعی مشاورت اور کابینہ کی منظوری سے کیے جائیں گے اور عوامی مفاد کو ہر حال میں ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کی ہدایات اور اتحاد کے جذبے کے تحت اقتدار کی منتقلی خوش اسلوبی سے مکمل ہوئی ہے، جو جمہوری اقدار کی بہترین مثال ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ڈی کے شیوکمار کی پہلی کابینہ میٹنگ میں کیے گئے اعلانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نئی حکومت عوامی فلاح، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نوجوانوں کے روزگار اور تعلیمی سہولتوں کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گی۔