ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: مورین کٹّے کا تنازعہ حل؛ مقامی اعتراضات کے بعد اصل مقام پر تعمیر کا فیصلہ، تنظیم نے کیا خیرمقدم

بھٹکل: مورین کٹّے کا تنازعہ حل؛ مقامی اعتراضات کے بعد اصل مقام پر تعمیر کا فیصلہ، تنظیم نے کیا خیرمقدم

Wed, 03 Jun 2026 01:56:10    S O News
بھٹکل: مورین کٹّے کا تنازعہ حل؛ مقامی اعتراضات کے بعد اصل مقام پر تعمیر کا فیصلہ، تنظیم نے کیا خیرمقدم

بھٹکل 2 جون (ایس او نیوز):اتر کنڑا ضلع انتظامیہ نے بھٹکل میں قومی شاہراہ 66 کی توسیع کے دوران مورین کٹّے کی منتقلی کو لے کر پیدا ہونے والے تنازعے کے حل کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کٹے کو اس کی اصل جگہ پر یعنی سڑک کے ڈیوائیڈر پر تعمیر کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا کی جانب سے پریس نوٹ کے مطابق، قومی شاہراہ کی توسیع کے سبب مورین کٹّے کو منتقل کرنے کی تجویز پر مقامی عوام، سماجی تنظیموں اور مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے تھے۔ اس معاملے پر عوامی جذبات اور مقامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے غور و خوض کیا۔

جس کے بعد مورین کٹّے کو پہلے سے موجود مقام کے قریب، سڑک کے درمیانی ڈیوائیڈر میں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شاہراہ کی توسیع کا کام بھی متاثر نہ ہو اور مقامی عوام کے جذبات کا بھی احترام برقرار رکھا جا سکے۔

ضلع انتظامیہ کے مطابق، اس سلسلے میں قومی شاہراہ اتھارٹی (NHAI) کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک قابلِ قبول حل نکالا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مورین کٹّے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کام کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پریس نوٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے ضلع انتظامیہ، عوامی نمائندوں اور مقامی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں متفقہ فیصلہ سامنے آیا۔ انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے سے مقامی سطح پر جاری تنازعہ ختم ہو جائے گا اور شاہراہ کی توسیع کا کام بھی بغیر رکاوٹ جاری رہے گا۔

تنظیم کا موقف:
معاملے کے حوالے سے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے قومی سماجی ادارہ مجلسِ اصلاح و تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری، جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی، ایڈوکیٹ عمران لنکا اور دیگر ذمہ داران نے مورین کٹّے کو اس کے اصل مقام پر تعمیر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی و تعلقہ انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHAI) کے ذمہ داران نے تنظیم کے وفد کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی تھی، جس کے بعد یہ طے پایا کہ مورین کٹّے کو اس کے سابقہ مقام پر، یعنی قومی شاہراہ کے ڈیوائیڈر میں ہی تعمیر کیا جائے گا۔

تنظیم کے ذمہ داران کے مطابق اس فیصلے پر اطراف کے مسلمانوں سمیت مقامی عوام کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جائے گا اور شاہراہ کی توسیع کا کام بھی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے گا۔


Share: