ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / سری لنکا میں بین الاقوامی سائبر فراڈ کا جال بے نقاب، بڑے نیٹ ورکس منظرعام پر

سری لنکا میں بین الاقوامی سائبر فراڈ کا جال بے نقاب، بڑے نیٹ ورکس منظرعام پر

Wed, 17 Jun 2026 11:42:32    S O News

کولمبو، 17/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)سری لنکا تیزی سے بین الاقوامی سائبر دھوکہ دہی اور آن لائن مالی فراڈ کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں معاشی مشکلات اور نگرانی کے کمزور نظام نے منظم جرائم پیشہ گروہوں کو اپنے نیٹ ورک قائم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ میانمار، کمبوڈیا اور لاؤس جیسے ممالک میں سرگرم سائبر جرائم کے گروہ اب اپنی کارروائیوں کا دائرہ سری لنکا تک وسیع کر رہے ہیں، جہاں بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ کاری اور رقوم کی جانچ نسبتاً محدود سمجھی جاتی ہے۔

2024 کے وسط سے سری لنکا پولیس اور محکمہ تفتیشِ جرائم کی جانب سے مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران متعدد بڑے فراڈ مراکز کا سراغ لگایا گیا۔ ان کارروائیوں میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی تھی۔ حکام کے مطابق کینڈی، پانادورا اور نیگومبو سمیت مختلف شہروں میں واقع پرتعیش ہوٹلوں اور مہمان خانوں کو مبینہ طور پر سائبر فراڈ کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

تحقیقات کے دوران سیکڑوں کمپیوٹر، موبائل فون اور ایسے آلات برآمد کیے گئے جو بیک وقت بڑی تعداد میں سم کارڈز چلا سکتے تھے۔ ان آلات کے ذریعے ہزاروں جعلی کالیں اور پیغامات بھیجے جاتے تھے تاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا جا سکے۔

اپریل 2026 میں امباکنداویلا کے ایک پرتعیش ہوٹل پر چھاپے کے دوران ایک سو پچاس افراد گرفتار کیے گئے۔ گرفتار شدگان میں 133 چینی، 13 ویتنامی، ایک ملائیشیائی اور دیگر افراد شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ آن لائن ذرائع استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر مالی جرائم انجام دے رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر آن لائن مارکیٹنگ اور اعداد و شمار درج کرنے جیسی ملازمتوں کے اشتہارات دے کر افراد کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔ بعد ازاں ان کے سفری دستاویزات ضبط کر لیے جاتے ہیں اور انہیں دھوکہ دہی کی کارروائیوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ان گروہوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ نام نہاد ’پگ بچرنگ‘ سرمایہ کاری فراڈ ہے، جس میں متاثرہ افراد کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد انہیں جعلی سرمایہ کاری منصوبوں میں رقم لگانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اپنی اصل شناخت اور مقام چھپانے کے لیے محفوظ نیٹ ورکنگ ذرائع استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہیک کیے گئے سماجی رابطوں کے کھاتوں کے ذریعے جعلی روابط اور مالی مطالبات بھی بھیجے جاتے ہیں۔

بعض معاملات میں متاثرین کو دھوکے سے مقامی نجی بینک کھاتوں میں رقوم منتقل کرنے پر بھی آمادہ کیا گیا۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چینی اور نائجیریائی شہریوں سے منسلک بعض گروہ ان نیٹ ورکس کے کلیدی منتظمین ہیں اور ان کے روابط خطے میں سرگرم بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں۔


Share: