ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / تمل ناڈو حکومت کا کسانوں کو تحفہ، 50 ہزار مفت بجلی کنکشن فراہم کرنے کی منظوری

تمل ناڈو حکومت کا کسانوں کو تحفہ، 50 ہزار مفت بجلی کنکشن فراہم کرنے کی منظوری

Sun, 25 Oct 2026 17:02:53    S O News

 چنئی ، 25/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)تمل ناڈو حکومت نے اس سال50000  نئے زرعی بجلی کنکشنوں کو منظوری دی ہے۔ اس سے آبپاشی کے لیے بجلی کنکشن کا انتظار کر رہے کسانوں کو راحت ملے گی۔ ساتھ ہی حکومت نے بجلی کی کھپت پر سبسڈی دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ محکمۂ توانائی نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں تمل ناڈو پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (ٹی این پی ڈی سی ایل) کو اس پروگرام پر عمل درآمد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ منظوری وزیر توانائی سی ٹی آر نرمل کمار کے ذریعہ اگست میں اسمبلی بجٹ اجلاس کے دوران اس پہل کا اعلان کیے جانے کے بعد بجلی کمپنی کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ منظور شدہ کنکشنوں میں سے 20000 کنکشن ’عام زمرے‘ کے تحت دیے جائیں گے، جن کا پورا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ 3372 کنکشن ’خود مالی اعانت اسکیم‘ کے تحت دیے جائیں گے، جس میں کسانوں کو اپنے منظور شدہ بجلی لوڈ کے لیے درکار رقم خود جمع کرانی ہوگی۔

25282 کنکشن ’فوری فاسٹ ٹریک اسکیم‘ کے تحت مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم میں درخواست دہندگان کو کم وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ باقی 1346 کنکشن مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت دیے جائیں گے۔ حکومت ان اضافی کنکشنوں کے لیے معمول کی بجلی کے استعمال پر سبسڈی فراہم کرے گی، جس پر 127.56 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ کنکشن لگانے کا خرچ ٹی این پی ڈی سی ایل برداشت کرے گا، جس پر تقریباً750  کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ ان الاٹمنٹ میں ادائیگی اور درخواست کے مختلف طریقۂ کار کے تحت دیے جانے والے کنکشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کے ذریعے اس سال بجلی کے نیٹ ورک سے جڑنے والے زرعی صارفین کو بھی ریاست کی ’مفت بجلی پالیسی‘ کا فائدہ ملے گا۔ تمل ناڈو حکومت ایک پالیسی کے تحت زرعی صارفین کو مفت بجلی فراہم کرتی ہے، جس کے لیے وہ سرکاری سبسڈی کے ذریعے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی (ڈسکام) کو معاوضہ ادا کرتی ہے۔

فی الحال ریاست بھر میں تقریباً24  لاکھ زرعی بجلی کنکشن اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مالی سال2025-26  میں حکومت نے زراعت کے لیے مفت بجلی کی سبسڈی کے مد میں7000  کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جاری کی ہے۔ حال ہی میں منظور کیے گئے نئے کنکشنوں سے اس امدادی پروگرام کے مستفیدین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب درخواستوں کا ایک بڑا بیک لاگ جمع ہوگیا ہے۔3  لاکھ سے زیادہ کسان اب بھی زرعی بجلی کنکشن ملنے کا انتظار کر رہے ہیں، جو کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے قبل ڈی ایم کے حکومت نے2021  سے2026  کے درمیان 1.70 لاکھ مفت زرعی بجلی کنکشن فراہم کیے تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں کنکشن دیے جانے کے باوجود انتظار کرنے والے کسانوں کی فہرست اب بھی کافی طویل ہے۔ حالیہ منظوری میں یہ طے کیا گیا ہے کہ کس زمرے کے تحت کتنے کنکشن دیے جائیں گے، اور اس سلسلے میں حکومت اور ٹی این پی ڈی سی ایل کی مالی ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد سے مزید 50000 زرعی صارفین بجلی کے نیٹ ورک سے جڑ جائیں گے، حالانکہ اس کے بعد بھی بڑی تعداد میں درخواستیں زیر التوا رہیں گی۔


Share: