لکھنؤ ، 6/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سماجوادی پارٹی (ایس پی) حکومت میں منظور کیے گئے ’مدرسہ تنخواہ بل‘ کو ختم کر دیا ہے۔ 2016 میں منظور کیے گئے ’اتر پردیش مدرسہ (اساتذہ اور دیگر ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی) بل 2016‘ کو مقننہ کے دونوں ایوانوں سے یوگی حکومت نے واپس لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً ایک دہائی سے زیر التوا اس بل کا باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ یہ بل قانونی اور آئینی وجوہات کے سبب نافذ نہیں ہو پایا تھا۔ گورنر اور بعد میں مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی وجہ سے اس بل کو منظوری نہیں مل سکی تھی۔ اب یوگی حکومت نے اسے باضابطہ طور پر واپس لے کر اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سماجوادی پارٹی حکومت نے 2016 میں مدارس کے اساتذہ اور دیگر ملازمین کی وقت پر تنخواہوں کو یقینی بنانے کے مقصد سے اس بل کو قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پاس کیا تھا۔ حکومت نے دلیل دی تھی کہ اس کے ذریعہ مدارس کے ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہیں ملنے کو یقینی بنایا جائے گا اور ادائیگی میں تاخیر کے لیے جوابدہی طے کی جائے گی۔ بل میں التزام کیا گیا تھا کہ اگر مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں وقت پر ادا نہیں کی جاتی ہیں تو ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ اسی التزام اور دیگر نکات کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
دونوں ایوانوں میں بل پاس ہونے کے بعد اس وقت کے گورنر رام نائک کے پاس بھیجا گیا تھا۔ گورنر نے بل کی بعض شقوں پر عدم اتفاق کا اظہار کیا اور اپنی منظوری دینے کے بجائے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دیا۔ آئین کے التزامات کے تحت ایسے معاملات میں صدر کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے۔ خصوصاً بل میں جب آئینی یا قانونی پریشانیاں درپیش ہوں۔ صدر تک پہنچنے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے اس بل کی جانچ کی۔ جانچ پڑتال کے دوران بل کی متعدد شقوں پر اعتراضات کیے گئے۔ وزارت داخلہ نے تسلیم کیا کہ کچھ دفعات قانونی اور آئینی طور پر درست نہیں ہیں۔ اس کے بعد مرکز کی جانب سے اس بل کو واپس لینے کا مشورہ دیا گیا۔ یہی وجہ رہی کہ یہ قانون کبھی وجود میں نہیں آسکا اور برسوں تک زیر التواء رہا۔
اب یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے زیر التواء بل کو مقننہ کے دونوں ایوانوں سے واپس لے لیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جب کسی بل کو آئینی منظوری نہیں ملی اور وہ کبھی نافذ نہیں ہوا تو اسے زیر التوا رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ دونوں ایوانوں سے دستبرداری کے ساتھ ہی یہ بل قانون سازی کے عمل سے مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ بل میں سب سے زیادہ بحث اس شق پر ہوئی تھی، جس میں تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہو۔ قانونی ماہرین کا خیال تھا کہ اس طرح کی شق بہت سے انتظامی اور آئینی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیگر دفعات کے حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ موجودہ قوانین اور انتظامی نظام سے میل نہیں کھاتے۔ یہی وجہ رہی کہ گورنر اور بعد میں مرکزی حکومت نے اعتراض کیا تھا۔