ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / عصمت ریزی معاملے میں سپریم کورٹ کی دہلی پولیس کو پھٹکار، ’مجرموں میں خوف پیدا کرنا ضروری‘

عصمت ریزی معاملے میں سپریم کورٹ کی دہلی پولیس کو پھٹکار، ’مجرموں میں خوف پیدا کرنا ضروری‘

Mon, 05 Oct 2026 17:58:15    S O News

نئی دہلی ، 5/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی-این سی آر میں مسلسل پیش آ رہے عصمت ریزی اور جنسی جرائم کے معاملوں پر سپریم کورٹ نے آج سماعت کی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے پوچھا کہ ایسے جرائم کو روکنے کے لیے پریوینٹیو یعنی جرم کو ہونے سے پہلے روکنے والی پولیسنگ کے طور پر کیا قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ صرف کاغذوں پر حکم اور ہدایت کافی نہیں ہے، بلکہ زمین پر اس کا اثر دکھائی دینا چاہئے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے خواتین اور بچوں کی سیکورٹی سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کی اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کی۔

سماعت کے دوران جسٹس جے بی پاردی والا نے کہا کہ جب تک آپ مجرموں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا نہیں کرتے ہیں کہ ایسا کچھ کرنے پر مارے جائیں گے، تب تک آپ ایسے جرائم کو روک نہیں پائیں گے۔ آپ کو ایسے جرائم کرنے کا رجحان رکھنے والے شخص کے ذہن میں خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے لیے کہا۔ سماعت کے دوران حقوق انسانی اور ملزمین سے وابستہ آرٹیکل 21 کا بھی ذکر کیا گیا۔

جسٹس پاردی والا نے اسکول اور کالج کے قریب سیکورٹی انتظامات پر توجہ دینے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے ایسی جگہوں کا ذکر کیا جہاں غنڈے یا سماج دشمن عناصر نئے طلباء کو ہراساں کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے مقامات پر مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کے 28 ستمبر کے حکم میں بھی عوامی مقامات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، پارکوں، سڑکوں، بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سیکورٹی انتظامات کی تفصیل طلب کی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا تھا کہ دیر شام اور صبح کے وقت جب عوامی مقامات پر آمد و رفت کم ہو سکتی ہے، تب سیکورٹی انتظامات کتنے اثر انداز ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پبلک ٹرانسپورٹ اور خواتین کی آمد و رفت والے حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ عدالت کی سابقہ سماعت میں دہلی پولیس کو کمزور اور حساس علاقوں کی نشاندہی کرنے، سی سی ٹی وی اور اسٹریٹ لائٹ کی صورتحال کی جانچ کرنے اور پٹرولنگ کے انتظام کا آڈٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے لیے ضلعی سطح پر ٹیم تشکیل دینے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے قواعد، احکامات اور رہنما ہدایات تبھی مؤثر ہیں، جب زمین پر عمل در آمد کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد پر بھی زور دیا۔ عدالت کا پیغام ہے کہ پولیس ایسا ادارہ ہونا چاہیے، جس کے پاس لوگ مدد کے لیے پہنچیں۔ خواتین اور بچوں کو شکایت یا خطرے کی صورت میں پولیس سے رابطہ کرنے میں خوف یا جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے پہلے ہی ضلعی انتظامیہ کو میڈیا کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی نمبروں کی معلومات وسیع پیمانے پر دستیاب کرانے کی ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں حالیہ کئی سنگین جنسی جرائم سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ ان میں آصف کنج پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت ریزی، سوروپ نگر میں کم عمر لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور قتل کے ساتھ ہی گریٹر نوئیڈا سے دہلی جا رہی بس میں نابالغ کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملات شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے پوچھا کہ جرم ہونے کے بعد کارروائی کرنے سے آگے بڑھ کر جرم کو ہونے سے پہلے کیسے روکا جائے۔ عدالت نے دہلی پولیس سے زمین پر اٹھائے گئے اقدامات کی معلومات طلب کی ہیں۔


Share: