بھٹکل، 24 مئی (ایس او نیوز): ساحلی کرناٹک کے شہر بھٹکل میں اتوار کو پیش آئے ایک المناک حادثے میں شرالی کی تٹی ہکّل ندی میں اچانک پانی کی سطح بلند ہوجانے کے سبب 11 ماہی گیر ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ مرنے والوں میں بیشتر خواتین شامل ہیں، جبکہ تین دیگر شدید زخمی ہوگئے جنہیں ابتدائی علاج کے بعد منی پال اسپتال منتقل کیا گیا۔
حادثہ اتوار کی صبح تقریباً 10 بجے اُس وقت پیش آیا جب شرالی کے شاردا ہولے علاقے سے تعلق رکھنے والے 14 ماہی گیر، جن میں 12 خواتین شامل تھیں، ندی میں چٹانوں سے چپکی سیپیوں کا گوشت، جسے نوائطی اور کونکنی زبان میں ’’کالوا ماس‘‘ کہا جاتا ہے، جمع کرنے کے لئے اُترے تھے۔ اسی دوران ندی میں اچانک پانی کی سطح بڑھ گئی اور تیز بہاؤ کے باعث ندی میں موجود تمام افراد پانی میں پھنس گئے۔



عینی شاہدین کے مطابق ماہی گیروں کی چیخ و پکار سن کر مقامی افراد فوری طور پر موقع پر پہنچے اور بچاؤ کارروائی شروع کی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 11 افراد کو ندی سے باہر نکالا گیا، تاہم ان میں سے آٹھ افراد موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ زخمی ہونے والے تین افراد کو پہلے بھٹکل سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں حالت تشویشناک ہونے پر انہیں منی پال اسپتال روانہ کیا گیا۔
حادثے کے فوراً بعد مقامی ماہی گیروں، کوسٹل سیکوریٹی پولیس اور دیگر امدادی ٹیموں نے کشتیوں کے ذریعے لاپتہ افراد کی تلاش شروع کی۔ شام تقریباً پانچ بجے ایک خاتون، جبکہ قریب 6:30 بجے مزید ایک خاتون کی نعش برآمد کی گئی، جس کے بعد شام تک مرنے والوں کی تعداد 10 ہوگئی، جبکہ بقیہ ایک فرد کی تلاش جاری تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کاروار سے اترکنڑا ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) دیپن ایم این، ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا، بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر مہیش، تحصیلدار ناگیندرا کولشیٹی سمیت کئی اعلیٰ افسران جائے وقوع پر پہنچے اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں افسران نے بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں دلاسہ دیا۔
مرنے والوں کی شناخت مالتھی جٹپّا نائک (38)، لکشمی مادھیو نائک پڈوشیرالی (46)، لکشمی شیورام نائک (40)، لکشمی انّپا نائک (50)، اُمیش منجوناتھ نائک (25)، لکشمی مادھو نائک (45)، جیوتی ناگپّا نائک (38)، ماستمّا منجوناتھ نائک (45)، منجمّما گوئدا نائک (35) اور ناگرتنا پرمیشور نائک (38) کے طور پر کی گئی ہے۔
فی الحال ایک ماہی گیر، مادیو بیرپّا نائک (40)، کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حادثے کے تعلق سے بھٹکل رورل پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوس
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کے لئے حکومت کی جانب سے فی کس 5 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ ماہی گیر کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے اور ان کی محفوظ بازیابی کے لئے دعا کی۔
کئی سیاسی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں نے بھی اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ اترکنڑا ضلع کے انچارج وزیر منکال ایس ویدیا نے اس واقعے کو ’’دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے سے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔ اترکنڑا کے رکن پارلیمان وشویشور ہیگڈے کاگیری نے اس سانحہ کو ’’انتہائی دردناک‘‘ قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے مناسب معاوضہ دلانے کی کوشش کا یقین دلایا۔ سینئر کانگریس لیڈر آر وی دیشپانڈے اور رکن اسمبلی شیو رام ہیبار نے بھی اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور لاپتہ ماہی گیر کی محفوظ بازیابی کے لئے دعا کی۔