کاروار، 6 /اگست (ایس او نیوز) اتر کنڑا ضلع میں شدید بارش اور خشک سالی کے باعث فصلوں کو پہنچنے والے نقصان، سڑکوں کی خستہ حالی، پینے کے پانی کی قلت اور بجلی سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ وزیر اور اتر کنڑا کے ڈسٹرکٹ انچارج منسٹر لکشمن ساودی نے ضلع کے مختلف علاقوں کا دو روزہ دورہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے اج بدھ کو کاروار پہنچ کر فوری راحتی اقدامات کے ساتھ ساتھ متاثرین کے لیے قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
کاروار میں ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے کانفرنس ہال میں منعقدہ شدید بارش اور خشک سالی سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لکشمن ساودی نے کہا کہ ضلع کے تمام اسمبلی حلقوں میں فصلوں اور دیگر نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے کر متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شدید بارش اور خشک سالی کے سبب کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر راحت فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے ضلع کے تمام ارکان اسمبلی اور متعلقہ افسران سے مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصانات کی معلومات حاصل کرنے کے بعد موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لینے اور ضلع ڈپٹی کمشنر کے ذریعے حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ہر اسمبلی حلقے کے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور مناسب راحت کے لیے حکومت سے درخواست کی جائے گی۔
وزیر نے سپاری کے باغات میں پھیلنے والی لیف اسپاٹ (پتوں پر دھبوں کی بیماری) اور سڑن کی بیماری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین سے مشاورت کرکے ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں کاروار کے رکن اسمبلی ستیش سئیل نے بتایا کہ بارش کے باعث دیہی علاقوں کی متعدد سڑکیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور ان کی فوری مرمت ضروری ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کائیگا جانے والی سڑک کی خستہ حالی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے فوری مرمت کا مطالبہ کیا۔
سرسی-سداپور کے رکن اسمبلی بھیمنا نائک نے کہا کہ سرسی علاقے میں بڑی تعداد میں دیہی سڑکیں بارش سے خراب ہوئی ہیں جبکہ غیر سائنسی انداز میں کیے گئے تعمیراتی کام بھی آمدورفت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے سپاری کے باغات میں سڑن کی بیماری کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کا ذکر کرتے ہوئے مناسب دوا اور علاج تلاش کرنے اور مکانات کو نقصان پہنچنے والے متاثرین کو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔
قانون ساز کونسل کے رکن گنپتی الویکر نے انکولہ تعلقہ کے ہارواڑ علاقے میں جاری سمندری کٹاؤ کے مسئلے کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ کیا۔

انکولہ کے ہارواڑ میں سمندری کٹاؤ کا وزیر نے کیا معائنہ: بعد ازاں وزیر لکشمن ساودی نے انکولہ تعلقہ کے ہارواڑ گاؤں میں سمندری کٹاؤ سے متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرہ رہائشیوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے اور متعلقہ افسران سے موجودہ صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
وزیر نے افسران کو ہدایت دی کہ سمندری کٹاؤ کو روکنے کے لیےسائنسی بنیادوں پر مستقل حفاظتی دیوارتعمیر کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور مستقل حل نہیں نکالا گیا تو آنے والے دنوں میں مزید مکانات اور زرعی زمین سمندر کی نذر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے ساحلی علاقوں کے رہنے والوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔
مقامی باشندوں نے وزیر کو بتایا کہ اس سال بارش، ہواؤں اور سمندری لہروں کی شدت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود سمندری کٹاؤ کا مسئلہ برقرار ہے اور ساحل کے قریب کئی مکانات خطرے کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال مانسون کے دوران یہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ساحلی باشندے مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ماضی میں وزیر اعلیٰ سمیت کئی وزراء علاقے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لے چکے ہیں، لیکن مستقل حل کے لیے ابھی تک مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر یلاپور کے رکن اسمبلی شیو رام ہیبار، کمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر شیٹی ، قانون ساز کونسل کے رکن گنپتی الویکر، ضلع گارنٹی اسکیموں کے نفاذ اتھارٹی کے صدر ستیش نائک، ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر دلیش ششی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا، مختلف سب ڈویژنل افسران، تحصیلدار اور دیگر محکموں کے افسران موجود تھے۔