بنگلورو ، 4/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ریاست میں خشک سالی کی صورتِ حال برقرار ہے اور شمالی کرناٹک کے 111 تعلقوں میں گزشتہ چار ہفتوں سے مسلسل خشک موسم ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں قحط جیسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
وزیر موصوف نے کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے چند اضلاع میں ہی بارش ہوئی ہے، جبکہ بیشتر علاقوں میں بارش کی شدید کمی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض آبی ذخائر میں پانی کی آمد بہتر ہوئی ہے، تاہم مجموعی طور پر خشک سالی کی صورتحال تشویش ناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کاویری آبی ذخیرے کے تحت آنے والے تین ڈیم تقریباً 90 فیصد بھر چکے ہیں، جبکہ کے آر ایس ڈیم میں بھی پانی کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دو سے تین دنوں میں یہ ڈیم بھی تقریباً 90 فیصد بھر جائے گا۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ شمالی کرناٹک کے 111 تعلقوں میں خشک سالی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور بارش کی کمی جتنی بڑھتی جائے گی، حالات اتنے ہی سنگین ہوتے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی نمائندے اور مقامی لوگ متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر خشک سالی زدہ قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم مرکزی حکومت کے مقررہ 10 رہنما اصولوں کے مطابق اگست کے اختتام سے پہلے باضابطہ طور پر خشک سالی کا اعلان ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان ضوابط میں نرمی لانے کی درخواست کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مکتوب ارسال کیا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ کے مطابق ریاست میں خشک سالی سے متعلق ریڈ زون اور ییلو زون کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس سلسلے میں کابینہ آئندہ مناسب فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں محکمہ محصولات کی جانب سے خشک سالی کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی۔