بھٹکل 21/جون (ایس او نیوز): سپریم کورٹ کی جانب سے حال ہی میں سنایا گیا ایک اہم فیصلہ اترکنڑا ضلع میں نیشنل ہائی وے 66 کی توسیع کے دوران عوامی سہولتوں کو نظرانداز کیے جانے کے مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کر گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ فٹ پاتھ پر محفوظ انداز میں چلنا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور سڑکوں کی منصوبہ بندی میں پیدل چلنے والوں کو محض ثانوی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔
سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سنایا جس میں ایک پانچ سالہ بچہ اپنے والد کا ہاتھ تھامے فٹ پاتھ پر چل رہا تھا کہ ایک ٹرک کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد معاوضے سے متعلق دائر مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ واضح حد بندی اور مناسب دیکھ بھال کے حامل فٹ پاتھ محض شہری سہولت نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں۔ عدالت نے پیدل چلنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی فریم ورک اور جوابدہی کے مؤثر نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ محفوظ انداز میں پیدل چلنا انسان کی بنیادی سرگرمیوں میں شامل ہے اور یہ باوقار زندگی کا لازمی جزو ہے۔ عدالت نے تشویش ظاہر کی کہ شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اکثر گاڑیوں کی نقل و حرکت کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بچوں، بزرگوں، معذور افراد اور دیگر پیدل چلنے والوں کی ضروریات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
عدالت کے یہ مشاہدات اُترکنڑا ضلع کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ کرناٹک میں نیشنل ہائی وے 66 کے 294 کلومیٹر طویل راستے کا تقریباً نصف حصہ اسی ضلع سے گزرتا ہے۔ ہائی وے کا تقریباً 142 کلومیٹر حصہ کاروار، انکولہ، کمٹہ، ہوناور اور بھٹکل تعلقوں پر مشتمل ہے، جن میں کاروار میں 30 کلومیٹر، انکولہ میں 25 کلومیٹر، کمٹہ میں 32 کلومیٹر، ہوناور میں 27 کلومیٹر اور بھٹکل میں 28 کلومیٹر نیشنل ہائی وے میں شامل ہے۔
اتنے بڑےہائی وے منصوبے کے باوجود ضلع کے متعدد حصوں میں سروس روڈ اور پیدل چلنے والوں کے لیے بنیادی سہولتوں کی کمی کا مسئلہ بدستور برقرار ہے جس کی وجہ سے عوام کو روزانہ جان جوکھم میں ڈال کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے اب تک عوامی سطح پر یہ واضح نہیں کیا کہ شاہراہ کے ساتھ سروس روڈ اور فٹ پاتھ کی فراہمی کے لیے کیا معیار یا تناسب اختیار کیا جانا چاہیے۔

دستیاب معلومات کے مطابق کاروار میں تقریباً 8 تا 10 کلومیٹر، انکولہ میں 6 تا 8 کلومیٹر، کمٹہ میں 10 تا 12 کلومیٹر، ہوناور میں 6 تا 8 کلومیٹر اور بھٹکل میں 10 تا 15 کلومیٹر سروس روڈ یا تو تعمیر کیے گئے ہیں، یا منصوبے میں شامل ہیں۔ تاہم شاہراہ کے طویل حصے آج بھی سروس روڈ اور محفوظ پیدل راہداریوں سے محروم ہیں، جس کے باعث عوام کو تیز رفتار ٹریفک کے درمیان سڑک عبور کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ متعدد مقامات پر لوگ مجبوری میں قومی شاہراہ کے کنارے یا درمیان سے گزرنے پر مجبور ہیں۔
بھٹکل میں شرالی سمیت کئی علاقوں کے مکین برسوں سے سروس روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ شاہراہ کے اطراف آباد کئی بستیوں کے لوگ محفوظ رسائی کے راستوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہراہ کی توسیع کے بعد گاڑیوں کی رفتار میں اضافہ تو ہوا ہے، لیکن مقامی آبادی کی ضروریات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
مقامی لوگوں نے کائیکنی بستی اور موڈ بھٹکل میں زیر تعمیر انڈر پاس منصوبوں کے التوا پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ بھٹکل کے قدوائی روڈ سے ریلوے اسٹیشن کے علاقے تک ایک انڈر پاس تعمیر کرنے کا مطالبہ بھی طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے، کیونکہ روزانہ سیکڑوں افراد کو اس مقام پر قومی شاہراہ عبور کرنی پڑتی ہے۔ تاہم یہ مطالبہ بھی اب تک پورا نہیں ہو سکا۔ ادھورے منصوبوں کے باعث پیدل چلنے والوں اور گاڑی سواروں کو شاہراہ عبور کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے اور بہت سے لوگ خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ این ایچ-66 نے علاقائی رابطوں کو بہتر بنایا ہے اور ٹریفک کی روانی میں اضافہ کیا ہے، لیکن شاہراہ کے کنارے رہنے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ اسکولی طلبہ، بزرگ شہری، روزانہ سفر کرنے والے افراد اور چھوٹے تاجروں کو اس صورتحال کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ان خدشات کو ایک نئی قانونی جہت عطا کر دی ہے۔ عدالت کی جانب سے محفوظ پیدل نقل و حرکت کو بنیادی حق قرار دیے جانے کے بعد این ایچ-66 کے متعدد حصوں میں فٹ پاتھ، سروس روڈ اور محفوظ گزرگاہوں کی عدم موجودگی کو اب محض بنیادی ڈھانچے کی خامی نہیں بلکہ شہری حقوق کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے ملک بھر میں جاری شاہراہی منصوبوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ترقی کا معیار صرف کشادہ سڑکیں اور تیز رفتار ٹریفک نہیں ہو سکتا، بلکہ عوامی بنیادی ڈھانچے کو عام شہریوں کے لیے تحفظ اور رسائی بھی یقینی بنانی چاہیے۔
اس فیصلے نے جوابدہی کے حوالے سے بھی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر پیدل چلنے والوں کے لیے بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث حادثات، زخمی ہونے کے واقعات یا جانی نقصانات پیش آتے ہیں تو شاہراہ کی منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال کے ذمہ دار اداروں کو مستقبل میں زیادہ سخت عوامی اور قانونی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھٹکل اور اُترکنڑا کے دیگر علاقوں کے باشندوں کے لیے یہ فیصلہ سروس روڈ، فٹ پاتھ اور زیر التوا انڈر پاس منصوبوں کی تکمیل کے مطالبات کو مزید تقویت دینے والا ثابت ہوا ہے۔ وسیع تر تناظر میں یہ فیصلہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اگر ترقی کے نام پر تعمیر ہونے والی شاہراہوں پر عام شہری محفوظ انداز میں چل پھر نہ سکیں تو ایسی ترقی کو حقیقی معنوں میں کامیاب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟