نئی دہلی، 12/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی ) کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈروں نے پولیس حراست سے رہائی کے بعدقومی راجدھانی میں صورتحال کوایمرجنسی سے تعبیر کیا۔ سی جے پی لیڈروں نے سوال کیا کہ گیانیش کمار اقتدار میں موجود لوگوں کے بارے میں آخر ایسا کیا جانتے ہیں کہ حکومت انہیں بچانے کی خاطر اپنے ہی شہریوں کے خلاف جنگ چھیڑنے پر آمادہ ہو گئی ہے؟نئی دہلی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے شریک بانیان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے سیکوریٹی کی بھاری نفری کی تعیناتی پر تنقید کی اورکہاکہ ان پابندیوں سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کا مقصد احتجاج کے خلاف عوامی رائے ہموار کرنا تھا۔
رانکا نے وزیر اعظم مودی کو سب سے بڑا بزدل قرار دیا۔ ۱۹۷۵ء کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے سوربھ داس نے کہاکہ دہلی کو عملی طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
سی جے پی نے تاہم اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور گیانیش کمار کے خلاف تحریک جاری رہے گی۔پارٹی کی اپیل ہے کہ کاکروچ پارٹی سے وابستہ جتنے بھی لوگ دہلی میں ہیں ،وہ ابھی یہیں مقیم رہیں اور جو لوگ باہر ہیں ،ان کیلئے ٹرین خدمات شروع ہوچکی ہیں۔
سوروداس نے کہا کہ ان کے فون کسی بھی نوٹس کے بغیر قبضے میں لے لئے گئے۔ انہیں خدشہ ہے کہ انہیں ہیک یا کلون کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ ہمارے فون کی سیکوریٹی متاثر ہوسکتی ہے۔داس نے کہا کہ۱۹۷۵ءکے آمرانہ دور کے بعد سے ایسے جبر پر مبنی حالات کبھی نہیں دیکھے گئے لیکن ہم اس کیخلاف مقابلہ کریں گے اور جیتیں گے۔