بیروت/واشنگٹن/تہران، 8 اپریل (ایس او نیوز): امریکہ اور ایران کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے فوراً بعد ہی مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ خاص طور پر لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں نے اس جنگ بندی کی مؤثریت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ خطے کے دیگر حصوں میں بھی بے چینی برقرار ہے۔
میڈیا رپورٹس، بالخصوص الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، جنگ بندی کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان بھر میں وسیع فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 89 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جن میں طبی عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ہلاکتیں صرف ایک دن کی کارروائی میں سامنے آئی ہیں، جو حملوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ حملے بیروت، وادیِ بقاع اور جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں کیے گئے، جہاں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کئی رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ سڑکیں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات بھی متاثر ہوئیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ جنگ بندی کے بعد حزب اللہ نے عارضی طور پر اپنے حملوں کو روک دیا ہے، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان علیحدہ محاذ جاری ہے۔ اس مؤقف کے بعد خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
ایران نے ان حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں کارروائیاں جاری رہیں تو وہ جنگ بندی سے دستبردار ہو سکتا ہے، جس سے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے مشروط جنگ بندی طے پائی تھی، جس کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر براہِ راست حملے روکنے پر آمادہ ہوئے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم جنگ بندی کے فوری بعد ہی لبنان میں ہونے والے حملوں نے اس معاہدے کی حدود کو نمایاں کر دیا ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک میں بھی مکمل سکون بحال نہیں ہو سکا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں میزائل اور ڈرون خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر حملوں کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے حبشان گیس کمپلیکس میں آگ لگنے اور سعودی عرب کی ایک اہم آئل پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی کوشش جیسے واقعات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوا ہے، اگرچہ ان واقعات کی تفصیلات تاحال محدود اور جزوی طور پر ہی سامنے آئی ہیں۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے، تاہم عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے اور تیل کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ یورپی یونین سمیت عالمی طاقتوں نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مستقل شکل دینے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک “نازک جنگ بندی” کی عکاسی کرتی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم میں وقتی کمی ضرور آئی ہے، لیکن علاقائی محاذ—خصوصاً لبنان—اب بھی شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگر لبنان میں جاری حملوں کو فوری طور پر نہیں روکا گیا تو یہ محدود جنگ بندی کسی بھی وقت ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔