بنگلورو 8/اپریل (ایس او نیوز): کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے واضح کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ "گارنٹی اسکیمیں" ووٹروں کو لبھانے کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے مقصد سے شروع کی گئی ہیں، اور ان کا انتخابی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے حکومت سے گارنٹی اسکیموں کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات طلب کی ہیں، خاص طور پر اُن اسمبلی حلقوں کے تعلق سے جہاں ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کے بعد سیاسی سطح پر یہ معاملہ زیر بحث آیا اور اپوزیشن کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ حکومت ان اسکیموں کو ووٹ بینک سیاست کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گارنٹی اسکیمیں ریاست کے غریب، متوسط اور محروم طبقات کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ان اسکیموں کے ذریعے خواتین، بے روزگار نوجوانوں اور عام شہریوں کو براہ راست مالی فائدہ پہنچ رہا ہے، جس سے ان کی خریداری کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت کو بھی تقویت ملی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنی انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کے مطابق پانچ اہم گارنٹی اسکیمیں نافذ کی ہیں، جن میں خواتین کے لیے مفت بس سفر (شکتی اسکیم)، گھریلو خواتین کو ماہانہ مالی امداد (گروہا لکشمی)، مفت بجلی (گروہا جیوتی)، راشن اسکیم (انّا بھاگیہ) اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے وظیفہ (یووا ندھی) شامل ہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے فنڈز کی تفصیلات طلب کیے جانے کو لے کر تنازع بڑھ گیا ہے۔ کمیشن نے خاص طور پر یہ جاننا چاہا ہے کہ آیا انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد ان اسکیموں کے تحت فنڈز جاری کیے گئے تھے یا نہیں، اور کیا اس کے لیے پیشگی اجازت لی گئی تھی۔
اس معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کمیشن کے اقدام پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا اور کہا کہ صرف مخصوص حلقوں میں اسکیموں کی جانچ کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی فلاحی پروگراموں کو جاری رکھے گی اور انہیں سیاسی رنگ دینا درست نہیں ہے۔