نئی دہلی ، 22/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) جنوبی علاقائی کونسل کی ۳۱؍ویں میٹنگ میں کرناٹک اور تمل ناڈو نے مرکز کے سامنے واضح کیا کہ آبادی پر قابو پانے اور قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی ریاستوں کو نئی حد بندی کی صورت میں سیاسی نمائندگی کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مطالبہ کیا کہ لوک سبھا کی موجود۵۴۳؍ نشستیں کم از کم اگلے ۲۵؍برس تک برقرار رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حد بندی ضروری سمجھی جائے تو اس کے لئے ۱۹۷۱ء کی مردم شماری کو بنیاد بنایا جائے۔ ساتھ ہی خواتین کے لیے ریزرویشن بھی موجودہ ۵۴۳؍ نشستوں کے دائرے میں نافذ کرنے کی تجویز دی۔ڈی کے شیوکمار نے جنوبی علاقائی کونسل سے اپیل کی کہ وہ ان مطالبات پر ایک باضابطہ قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو بھیجے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ریاستوں کو یہ یقین دہانی ضرور دی گئی ہے کہ ان کی نشستوں میں کمی نہیں ہوگی، لیکن اصل سوال صرف نشستوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ میں سیاسی آواز اور اثر و رسوخ کا بھی ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجے نے بھی جنوبی ریاستوں کے خدشات کی بھرپور ترجمانی کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہندوستان نے آبادی پر قابو پانے، انسانی ترقی اور اقتصادی پیش رفت کے میدان میں قومی اہداف کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔ ایسے میں اگر نئی حد بندی کا پیمانہ موجودہ آبادی بن گیا تو بہتر کارکردگی دکھانے والی ریاستیں اپنی ہی کامیابی کا خمیازہ بھگت سکتی ہیں۔وجے کے مطابق حالیہ مردم شماری کی بنیاد پر حد بندی ہوئی تو زیادہ آبادی رکھنے والی ریاستوں کی لوک سبھا میں نشستیں بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی ریاستوں کی مجموعی سیاسی نمائندگی نسبتاً کم ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی پالیسیوں پر مؤثر عمل کرنے والی ریاستوں کو انعام نہ سہی، کم از کم اس کامیابی کی سزا بھی نہیں ملنی چاہیے۔انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ قانون کے ذریعے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آبادی کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی متاثر نہیں ہوگی۔تمل ناڈو اسمبلی بھی۱۲؍ اگست کو اسی نوعیت کی قرارداد منظور کرچکی ہے، جس میں لوک سبھا کی ۵۴۳؍ نشستوں کو برقرار رکھنے اور خواتین کے لیے ریزرویشن اسی نشستوں کے اندر نافذ کرنے کی حمایت کی گئی تھی۔ ان کے مطابق جنوبی بھارت کی پانچ ریاستیں ملک کی مجموعی جی ڈی پی میں تقریباً ایک تہائی حصہ ڈالتی ہیں، جبکہ ان کی مجموعی آبادی ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو ریاستیں قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں، ان کے سیاسی مفادات اور پارلیمانی اثر و رسوخ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
کیرالہ کے وزیراعلیٰ ستیشن ،تلنگانہ کے نائب وزیراعلیٰ ملو نے بھی شیوکمار اور وجئے جوزف کے موقف کی تائید کی۔ جنوبی ریاستوں کا بنیادی موقف یہی ہے کہ نمائندگی کا نظام ایسا نہ ہو جو ترقی، بہتر حکمرانی اور آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کو سیاسی نقصان میں تبدیل کردے۔ اس اجلاس میں جنوبی ہند کی ریاستوں نے پانی کے آپسی تنازعات اور دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔