ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / FCRA ترمیمی بل JPC کے حوالے؛ اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے قومی سلامتی اور شفافیت کو قرار دیا مقصد

FCRA ترمیمی بل JPC کے حوالے؛ اپوزیشن کا شدید احتجاج، حکومت نے قومی سلامتی اور شفافیت کو قرار دیا مقصد

Wed, 12 Aug 2026 18:08:43    S O News

نئی دہلی، 12 اگست (ایس او نیوز): پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بدھ کو ایک مرتبہ پھر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جب لوک سبھا میں پیش کیے گئے Foreign Contribution (Regulation) Amendment Bill, 2026 کو اپوزیشن کے شدید احتجاج کے درمیان مزید جانچ اور غور کے لیے 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے حوالے کردیا گیا۔ کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔

یہ بل Foreign Contribution (Regulation) Act, 2010 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے اور اس کا تعلق بیرون ملک سے حاصل ہونے والی مالی امداد اور عطیات کے حصول، استعمال اور نگرانی سے ہے۔ بل 25 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کی متعدد شقوں بالخصوص غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے اثاثوں سے متعلق مجوزہ اختیارات پر سیاسی اور سماجی سطح پر بحث جاری ہے۔

اپوزیشن ارکان نے ایوان میں بل کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سے مرکزی حکومت کو NGOs، فلاحی اداروں اور اقلیتی تنظیموں کے معاملات میں وسیع اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں اور بعض حالات میں غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے اثاثے بھی حکومتی کنٹرول میں آسکتے ہیں۔ اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور نعرے بازی کے درمیان مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نِتیانند رائے نے بل کو JPC کے حوالے کرنے کی تحریک پیش کی، جسے صوتی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔

بل میں کیا تجویز کیا گیا ہے؟
مجوزہ قانون میں FCRA رجسٹریشن رکھنے والی کسی تنظیم یا ادارے کا سرٹیفکیٹ منسوخ ہوجانے، تنظیم کی جانب سے خود سرٹیفکیٹ واپس کیے جانے، تجدید کے لیے درخواست نہ دینے یا تجدید کی درخواست مسترد ہوجانے کی صورت میں غیر ملکی عطیات اور ان سے بنائے گئے اثاثوں کے بارے میں ایک نیا انتظام تجویز کیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے ایک "Designated Authority" مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ بل کے مطابق بعض حالات میں متعلقہ غیر ملکی عطیات اور ان سے بنائے گئے اثاثے اس اتھارٹی کے پاس عارضی طور پر منتقل ہوسکتے ہیں، جو ان کی نگرانی، انتظام اور بعض صورتوں میں تصرف سے متعلق کارروائی کرسکتی ہے۔

مجوزہ نظام میں اگر کسی تنظیم کی FCRA حیثیت بعد میں بحال ہوجاتی ہے تو متعلقہ اثاثوں اور فنڈز کو واپس کرنے کا راستہ بھی رکھا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کسی تنظیم کی جائز ملکیت چھیننا نہیں بلکہ FCRA رجسٹریشن ختم ہونے کے بعد غیر ملکی فنڈ سے بنائے گئے اثاثوں کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

عبادت گاہوں سے متعلق کیا ہے شق؟
بل کی سب سے زیادہ زیر بحث شقوں میں سے ایک غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے اثاثوں کے انتظام سے متعلق ہے۔ مجوزہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایسا اثاثہ عبادت گاہ ہو تو Designated Authority کو اس کا انتظام کسی شخص یا ادارے کے سپرد کرتے وقت اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس عبادت گاہ کی مذہبی حیثیت برقرار رہے۔

اپوزیشن اور بعض مذہبی و سول سوسائٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود حکومت کو غیر ملکی فنڈ سے بنائے گئے اسکولوں، اسپتالوں، فلاحی مراکز اور دیگر املاک کے بارے میں وسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ ان حلقوں کو خدشہ ہے کہ FCRA رجسٹریشن منسوخ یا ختم ہونے کی صورت میں اداروں کی املاک متاثر ہوسکتی ہیں۔

حکومت کا مؤقف
مرکزی حکومت نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ بل کسی خاص مذہب یا اقلیتی اداروں کو نشانہ بناتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد غیر ملکی عطیات کے استعمال میں شفافیت، مالی نظم و ضبط، قومی مفاد اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ وہ بل کی ایسی کون سی مخصوص شق کی نشاندہی کرے جو اقلیتوں کے خلاف ہو۔ حکومت کے مطابق FCRA قانون تمام رجسٹرڈ اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا اور مجوزہ تبدیلیاں کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں ہیں۔

حکومت کی جانب سے یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ Designated Authority صرف اس صورت میں اثاثوں سے متعلق کارروائی کرے گی جب کسی ادارے کی FCRA رجسٹریشن قانونی طور پر ختم ہوچکی ہو، جبکہ ابتدائی طور پر اثاثوں کا اختیار عارضی نوعیت کا ہوگا۔ سرکاری وضاحت کے مطابق عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت قانون کے تحت برقرار رہے گی اور اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف نظرثانی اور عدالتی اپیل کا راستہ بھی موجود ہوگا۔

اپوزیشن کیوں مخالفت کررہی ہے؟
اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی اعتراض مجوزہ Designated Authority اور اس کے اختیارات پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ FCRA رجسٹریشن کے خاتمے کے ساتھ ہی غیر ملکی فنڈ سے بنائے گئے اثاثوں کو حکومتی کنٹرول میں لانے کا اختیار مرکزی حکومت کے ہاتھ میں آ جائے گا، جس کا غلط استعمال ممکن ہے۔

اپوزیشن کے مطابق ملک میں بڑی تعداد میں NGOs، تعلیمی ادارے، طبی مراکز، فلاحی تنظیمیں اور مذہبی ادارے غیر ملکی عطیات کے ذریعے مختلف منصوبے چلاتے ہیں۔ اگر کسی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ ہوجائے یا تجدید نہ ہوسکے تو اس کے اثاثوں کا مستقبل مجوزہ قانون کے تحت حکومتی اتھارٹی کے اختیار میں آسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر اپوزیشن نے بل کو موجودہ شکل میں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بعض مسیحی تنظیموں اور سول سوسائٹی حلقوں نے بھی بل کی ان شقوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے اثرات اقلیتی اداروں اور مذہبی تنظیموں تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ قانون مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ FCRA حیثیت اور غیر ملکی فنڈنگ کے قانونی استعمال کی بنیاد پر کارروائی کا نظام وضع کرتا ہے۔

دیگر مجوزہ تبدیلیاں
بل میں FCRA رجسٹریشن کے خاتمے کی مختلف صورتوں کے لیے نیا قانونی فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔ اس میں رجسٹریشن منسوخ ہونے، ادارے کی جانب سے سرٹیفکیٹ واپس کیے جانے یا تجدید نہ  ہونے کی صورت میں غیر ملکی عطیات اور ان سے بنائے گئے اثاثوں کے انتظام سے متعلق تفصیلی دفعات شامل ہیں۔

مجوزہ قانون کا مقصد غیر ملکی عطیات کے استعمال کی نگرانی کے نظام کو مزید واضح کرنا اور ان حالات سے نمٹنے کے لیے قانونی طریقہ کار فراہم کرنا ہے جب کوئی ادارہ FCRA کے تحت غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے کا اہل نہیں رہتا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم FCRA کے موجودہ قانونی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش ہیں، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ مجوزہ اختیارات کا دائرہ ضرورت سے زیادہ وسیع ہے اور اس پر پارلیمانی سطح پر تفصیلی بحث ضروری ہے۔

اب بل کا کیا ہوگا؟
لوک سبھا سے JPC کو بھیجے جانے کے بعد بل فوری طور پر قانون نہیں بنے گا۔ 31 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اس کی مختلف شقوں کا تفصیلی جائزہ لے گی، حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف کا جائزہ لینے کے ساتھ متعلقہ شعبوں اور اداروں سے رائے بھی حاصل کرسکتی ہے۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے کے آخری دن تک لوک سبھا میں پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اس کے بعد JPC کی سفارشات کی روشنی میں بل دوبارہ پارلیمنٹ کے سامنے آئے گا۔ اس مرحلے پر اس کی شقوں میں تبدیلی، مزید ترامیم یا موجودہ شکل میں آگے بڑھانے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

یوں آج کی کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ FCRA ترمیمی بل قانون بن گیا ہے یا حکومت کو NGOs کے اثاثے ضبط کرنے کے حتمی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ فی الحال بل پارلیمانی جانچ کے مرحلے میں ہے اور اس کے اہم متنازع پہلو اب 31 رکنی JPC کے سامنے زیر غور آئیں گے۔


Share: