منگلورو 6 / اپریل (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا میں سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے نیشنل کوسٹل ژون مینجمنٹ اتھاریٹی کی سفارش پر مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے کرناٹک کے کوسٹل ژون مینجمنٹ پلان کو اگر چہ منظوری دے دی ہے، لیکن اس منصوبے پر عمل در آمد کی راہ میں الجھنیں اور ریگولیٹری رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں ۔
ساحلی کرناٹک میں سیاحت کی ترقی سے بالواسطہ اور بلا واسطہ روزگار اور مقامی لوگوں کے لیے آمدنی کے مواقع پیدا ہونے سے سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون ملنےکی توقع ہے ۔ تاہم، کوسٹل ریگولیشن زون (سی آر زیڈ) کے قوانین کی وجہ سے کسی بھی نئے منصوبے پر عمل پیرائی کے لیے اہم چیلنجز کا سامنے آتے ہیں ۔ خیال رہے کہ سی آر زیڈ کلیئرنس حاصل کرنے کی غرض سے دی گئی درخواستوں پر2019 کے سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت غور کیا جاتا ہے ۔
کرناٹک کے لیے تیار کیے گئے کوسٹل ژون مینجمنٹ پلان کے نقشوں کے مطابق کسی بھی نئے منصوبے کے لئے عوام کرناٹک اسٹیٹ کوسٹل زون مینجمنٹ اتھاریٹی یا محکمہ سیاحت سے منظوری حاصل کر سکتے ہیں ۔ لیکن صرف مشروط اجازت دی جاتی ہے ۔
اب ساحلی علاقے میں سیاحتی ترقی کے لیے نئے منصوبے کے تحت اترا کنڑ، اڈپی اور دکشن کنڑ اضلاع میں کل 92 ساحلوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ منظور شدہ کوسٹل ژون ماسٹر پلان میں سیاحتی منصوبوں کو شامل کرکے ان ساحلوں کو بڑے سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے ۔
جو علاقے سی آر زیڈ قانون کے تحت آتے ہیں ان کو CRZ-1A، CRZ-1B، CRZ-2، اور CRZ-3 زمروں میں درجہ بند کیا گیا ہے ۔ ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے سختی کے ساتھ کوسٹل ژون مینجمنٹ اتھاریٹی کے رہنما خطوط کی پابندی کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ قابل اجازت سرگرمیوں میں ہوٹل، ریسارٹس، گودی، جھونپڑیاں، واٹر اسپورٹس، ایڈونچر اسپورٹس اور متعلقہ سیاحتی انفراسٹرکچر شامل ہیں ۔
CRZ-1A ژونز میں صرف مینگروو واک ویز، لکڑی کی جھونپڑیوں اور قدرتی راستے کی تعمیر جیسی سرگرمیوں کی اجازت ہوتی ہے ۔ جبکہ CRZ-2 زمرے والے مخصوص سیاحتی ترقی کے علاقوں میں میں ساحل سمندر کے قریب ریسارٹس اور ہوٹلوں تعمیر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ مگر ایسے نشان زد علاقوں کی شناخت کرنا بذاتِ خود مشکل ثابت ہوتا ہے ۔
ساحلوں کے قریب جھونپڑیاں، بیت الخلاء، بدلنے کے کمرے، شاور پینل، پیور بلاک کے چلنے والے راستے، پینے کے پانی کی سہولیات، اور بیٹھنے کے انتظامات جیسی عارضی سیاحتی سہولیات کی اجازت صرف منظور شدہ علاقوں میں ہی ہوتی ہے اور یہ ہائی ٹائیڈ لائن سے کم از کم 10 میٹر کے فاصلے پر واقع ہونی چاہیے ۔ CRZ-3 ژون میں زیادہ تر سرگرمیوں پر اسی طرح کی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں ۔
محکمہ سیاحت کے ذریعہ ریاست کے ساحلی علاقے میں تمام ساحلوں کو سیاحتی ترقی کے لئے نقشہ میں رکھا گیا ہے، جس میں قابل اجازت سرگرمیوں اور ان کے لیے مخصوص علاقے کی حد بندی کی وضاحت کی گئی ہے ۔ CRZ-1A، 1B، 4A، اور 4B زمروں کے تحت سرگرمیوں کے لیے مرکزی حکومت سے کلیئرنس حاصل کرنا ضروری ہے، جب کہ CRZ-2 اور CRZ-3 زمروں کے لیے کرناٹکا کوسٹل ژون مینجمنٹ اتھاریٹی سے آن لائن نو آبجکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے ۔
سی آر زیڈ افسران کا کہنا ہے کہ ساحلی سیاحت کی ترقی کے لیے 2019 کے نوٹیفکیشن کے تحت رہنما خطوط وضع کیے گئے ہیں ۔ مخصوص مقامات پر ریاستی اور مرکزی حکام کی اجازت کے ساتھ صرف منظور شدہ سرگرمیاں ہی انجام دی جا سکتی ہیں ۔ قوانین کی خلاف ورزی پر نوٹس اور کارروائی کی جاتی ہے ۔
مگر سیاحت کے فروغ دینے والے یتیش بائیکمپاڈی نے نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ 2019 میں رہنما خطوط جاری کیے گئے تھے، تاہم اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وضاحت کی کمی ہے۔ " 2024 میں اس قانون کا ایک جائزہ لینا اور نظر ثانی کے بعد ایک نیا نوٹیفکیشن متوقع تھا ۔ اب ہم 2026 میں ہیں ۔ نئے قوانین جلد از جلد وضع کیے جائیں، ورنہ کئی سرمایہ کاری مواقع اور منصوبے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں،"