بنگلورو، 11/جون(ایس او نیوز)ریاستی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب یو۔ٹی۔ قادر نے کرناٹک مسلم متحدہ محاذ (KMMM) کے مرکزی دفتر، دارالسلام بلڈنگ، کوئینس روڈ، بنگلور کا خیرسگالی دورہ کیا، جہاں ریاست کی مختلف ملی، سماجی اور نوجوان تنظیموں کے ذمہ داران نے ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر، جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے سیکریٹری محمد یوسف کنی، جمعیت العلماء کرناٹک کے امیر مولانا محب اللہ امین، سنّی جماعت کے اللہ بخش ددو بھائی، صالیڈارٹی یوتھ موومنٹ کرناٹک کے صدر ڈاکٹر نسیم، ایس آئی او کے سیکریٹری حیان، ایکٹو بنگلور سے وابستہ برادر توصیف اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
پروگرام کا آغاز جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے سیکریٹری محمد یوسف کنی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے وزیرِ صحت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملت کو آپ سے بڑی توقعات وابستہ ہیں، خصوصاً صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے میدان میں آپ کی قیادت سے مثبت تبدیلی کی امید کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور ملی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور اشتراکِ عمل کے ذریعے غریب، پسماندہ اور طبی سہولیات سے محروم طبقات تک سرکاری اسکیموں کے فوائد مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکتے ہیں۔
بعد ازاں محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر نے کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ 25 سے زائد مسلم تنظیموں اور اداروں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جو ملت میں سیاسی شعور، باہمی ہم آہنگی، ملی اتحاد اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے ریاست کی موجودہ سماجی و سیاسی صورتحال پر مختصر روشنی ڈالی اور وزیرِ موصوف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر برادر توصیف (ایکٹو بنگلور) نے غریب اور مستحق مریضوں کی رہنمائی اور طبی امداد کے میدان میں اپنی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم عوام کو سرکاری طبی اسکیموں سے استفادہ، نجی اسپتالوں تک رسائی اور علاج سے متعلق ضروری رہنمائی فراہم کرنے میں سرگرم ہے۔ انہوں نے ریاستِ کرناٹک میں ایئر ایمبولینس سروس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خصوصاً ٹریفک کے شدید ازدحام والے شہر بنگلور میں سڑک حادثات اور سنگین زخمیوں کو بروقت بڑے اسپتالوں تک منتقل کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیرِ صحت سے اپیل کی کہ اگر آپ کے دورِ وزارت میں ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز ہو جائے تو یہ ایک تاریخی خدمت ہوگی، جسے عوام خصوصاً ہنگامی طبی صورتحال سے دوچار مریض ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
اپنے خطاب میں وزیرِ صحت یو۔ٹی۔ قادر نے محاذ کی جانب سے دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ریاست میں مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر مسلمانوں کو قیادت اور حکمرانی میں مناسب حصہ نہ دینے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مواقع صرف حاصل کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ ملنے والے مواقع کو بہتر انداز میں استعمال کرنا، اچھی کارکردگی پیش کرنا اور عوامی خدمت کے ذریعے مزید اعتماد حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے مختلف ادوار میں مسلم قیادت کو اہم ذمہ داریاں اور باوقار وزارتیں دی گئیں، جن میں مالیات (فائنانس) جیسے اہم قلمدان بھی شامل رہے۔ انہوں نے سابق وزیرِ مالیات ایس۔ ایم۔ یحییٰ اور سینئر مسلم قائد سی۔ ایم۔ ابراہیم کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب کانگریس حکومت میں مسلم نمائندگی نسبتاً مضبوط تھی اور متعدد وزارتوں میں مسلم قائدین کا مؤثر کردار نظر آتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محض شکایات اور احساسِ محرومی کے بجائے ملت کو حاصل مواقع سے بہتر استفادہ، مؤثر خدمت اور مثبت قیادت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ اچھی کارکردگی اور عوامی خدمت مستقبل میں مزید مواقع اور مضبوط سیاسی نمائندگی کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔
وزیرِ صحت نے صحت کے شعبے میں اپنی ترجیحات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی موجودہ BPL (Below Poverty Line) اسکیموں کے ذریعے غریب طبقات کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم ان کی ترجیحات میں یہ بات شامل ہے کہ APL (Above Poverty Line) سے تعلق رکھنے والے ایسے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو بھی، جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، طبی امداد اور مفت یا رعایتی علاج کی سہولتوں کے دائرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی خواہش اور ترجیح ہے کہ صحت کی سہولیات کا دائرہ مزید وسیع ہو تاکہ کوئی بھی مستحق مریض محض مالی مجبوری کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔
وزیرِ محترم نے اس موقع پر یقین دلایا کہ وہ ملت کے مسائل کے حل، عوامی خدمات اور برادرانِ ملت کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی مسائل کے حل اور ملت کی ترقی و استحکام کے لیے وہ اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں گے اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
پروگرام خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا، جہاں وزیرِ صحت نے شرکاء سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے ملت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔