ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / سیوٹا میں مراکشی تارکین وطن کا احتجاج، اسپین سے واپسی کے بجائے پناہ دینے کا مطالبہ

سیوٹا میں مراکشی تارکین وطن کا احتجاج، اسپین سے واپسی کے بجائے پناہ دینے کا مطالبہ

Mon, 17 Aug 2026 12:19:08    S O News

سیوٹا  ، 17/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)اسپین کے شمال افریقی علاقہ سیوٹا میں حال ہی میں داخل ہونے والے مراکش کے سینکڑوں تارکین وطن نے شہر کے ایک مقبول ساحل پر مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مراکش واپس بھیجنے کی جگہ اسپین میں ہی پناہ دی جائے۔ 16 اگست کو مظاہرہ کرنے والے یہ لوگ ان 5,000 سے 8,000 تارکین وطن میں شامل ہیں جو 2 ہفتہ قبل سرحد پار کر کے سیوٹا پہنچے تھے اور اب بھی سیوٹا میں ہی رکے ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 2 ہفتہ قبل اس وقت ہنگامی حالت دیکھنے کو ملی تھی جب تقریباً 80,000 کی آبادی والے اس چھوٹے سے علاقہ سیوٹا میں 72,000 سے زیادہ لوگ اپنا ملک چھوڑ کر پہنچ گئے تھے۔ حالانکہ چند ہی روز بعد بیشتر تارکین وطن اپنی مرضی سے واپس مراکش لوٹ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب بھی کئی تارکین وطن سیوٹا میں موجود ہیں۔ شہر کے وسائل پر دباؤ بڑھنے کے باعث بیشتر تارکین وطن ایل ترامپولین ساحل یا شہر کے مضافاتی علاقوں میں خراب حالات میں رہ رہے ہیں۔ وہ براعظم یورپ کی جانب آگے بڑھنے کا موقع ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مراکش کے ٹیطوان باشندہ ایوب الارود نے کہا کہ ’’ہم سمندر کے قریب سو رہے ہیں۔ سردی ہے اور بدبو ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس تارکین وطن کو شہر کے وسطی حصہ میں جانے سے روک رہی ہے۔ ٹیطوان بھی ساحل پر مظاہرہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں اسپین کے پرچم تھے۔ کچھ نے ہاتھوں میں بینر پکڑ رکھا تھا، جس پر لکھا تھا کہ وہ مراکش واپس نہیں جانا چاہتے اور وہ بھی انسان ہیں۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ وہ تھک چکے ہیں اور انہیں کوئی حل چاہیے۔ ان کے پیچھے پتھریلے ساحل پر کچھ تارکین وطن کپڑے دھو رہے تھے، جبکہ کچھ لوگ بانس کی بنی عارضی چھڑی سے مچھلی پکڑ رہے تھے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے-مارلاسکا نے کہا تھا کہ جو تارکین وطن غیر قانونی طریقے سے داخل ہوئے ہیں، انہیں اس علاقے میں رہنے، اسپین کی سرزمین کے مرکزی حصہ میں جانے یا قانونی حیثیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ صرف انتہائی غیر محفوظ حالات والے نادر معاملات میں ہی استثنیٰ ہو سکتا ہے۔ فی الحال سیوٹا میں پھنسے تارکین وطن واپسی کے بجائے پناہ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ اسپین کی حکومت کا سخت موقف برقرار ہے۔


Share: