کاروار ،10/ جون (ایس او نیوز) سُنکیری کڈواڑ کا تقریباً چھ دہائی پرانا کمزور اور خستہ پُل کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، البتہ اس کی وجہ سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ پُل رات بارہ بجے کی جگہ صبح چار پانچ بجے کے قریب ٹوٹا ہوتا تو کئی مچھیروں کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا ، کیونکہ اس وقت یہاں پُل پر کھڑے ہو کر جال بچھاتے ہوئے مچھلیوں کا شکار کرنے والے بڑی تعداد میں موجود رہتے ہیں ۔
کڈواڑ کے اس پُل کی تعمیر 1957 میں ہوئی جس کا ٹھیکہ مرڈیشور کے مشہور صنعت کار آر این شیٹی کو ملا تھا ۔ 1963-64 میں تعمیر مکمل ہونے پر اُس وقت کے کرناٹکا کے وزیر مالیات رام کرشنا ہیگڑے نے اس کا افتتاح کیا تھا ۔
یہ پُل گزشتہ چھ دہائیوں سے موٹر گاڑیوں اور مقامی لوگوں کی آمد و رفت کے علاوہ مچھلیوں کے شکار کے بھی مسلسل استعمال ہو رہا تھا ۔ اس پُل کی حالت بہت ہی خستہ ہونے کی وجہ سے کچھ سال پہلے اس پر سے موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت ممنوع قرار دی گئی اس کے قریب نیا پُل تعمیر کیا گیا ۔ مگر اس پرانے پُل پر کھڑے ہو کر مچھلیوں کا شکار کرنے کا کام برابر جاری رہا ۔ سنکیری کی اس ندی میں میٹھے پانی کی تمام مچھلیاں پائی جاتی ہیں اور یہاں ملنے والے جھینگوں کی گوا اور ممبئی میں بڑی مانگ ہے ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ موٹرگاڑیوں کی آمد و رفت ممنوع قرار دئے جانے کے بعد اس پُل پر مچھلیوں کے شکار کے علاوہ شام کے وقت نوجوانوں کی ٹولیاں جمع ہونے اور شراب نوشی اور دیگر موج مستی کا سلسلہ بھی چل رہا تھا اس وجہ سے شام کے وقت اگر پُل گرا ہوتا تب بھی جانی نقصان ہونے کا خدشہ موجود تھا ۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گرام پنچایت، سٹی میونسپل کاونسل، پی ڈبلیو ڈی میں سے کوئی بھی محکمہ اس پُل اور اس کے گرے ہوئے ملبے کو ہٹانے کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ جب یہاں نیا پُل تعمیر ہوا تھا تو اُس وقت پی ڈبلیو ڈی اور گرام پنچایت کی طرف سے پرانے پل کو گرانے اور ملبہ ہٹانے کی تجویز تھی، مگر مقامی مچھیروں نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور مچھلیوں کے شکار کے لئے اسے باقی رکھنے پر زور دیتے ہوئے احتجاج کیا تھا ۔ اس کے بعد مچھلیوں کا شکار کرتے ہوئے اس جگہ کچھ مچھیروں کی موت کے بعد دوبارہ گرام پنچایت کی میٹنگوں میں اس پل کو ہٹانے کی بات بھی آئی تھی ۔ جب آنند اسنوٹیکر وزیر بنے تھے تب بھی محکمہ پی ڈبلیو ڈی کو اس پُل کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی ۔
اب پی ڈبلیو ڈی کے انجینئر سے اس بارے میں پوچھو تو جواب ملتا ہے کہ جب نیا پُل تعمیر ہوا تھا اسی وقت پرانے پُل کو ہٹانا چاہیے تھا ۔ اب ہمارے محکمہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اب سوال یہ کھڑا ہو گیا ہے کہ کڈواڑ پُل والی جگہ کس محکمہ سے تعلق رکھتی ہے ؟ اس سے قبل یہاں عوام کی طرف سے کچرا پھینکے جانے کے معاملے پر یہ تنازعہ کھڑا ہوا تھا کہ یہ گرام پنچایت کا علاقہ ہے ۔ اس پس منظر میں گرام پنچایت کی جانب سے سروے بھی کیا گیا تھا اور یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس کا ایک حصہ گرام پنچایت کے حدود میں آتا ہے اور دوسرا حصہ سٹی میونسپل کاونسل کے حدود میں شامل ہے ۔ اس کے بعد بھی کوئی بھی اس پُل کو ہٹانے کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے، اور اس لاوارث پُل کی وجہ سے مزید کوئی حادثہ ہونے پر کیا صورت حال ہوگی اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں ہے ۔