بنگلورو، 14/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی): ریاستی وزیر پریانک کھرگے نے سابق بی جے پی رکن پارلیمان سے متعلق ایک سخت بیان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریبوں کے بچوں کو تنازعات اور مقدمات میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک جانب بی جے پی کے بعض رہنما اپنے بچوں کے لیے بیرونِ ملک تعلیم کے مواقع تلاش کرتے ہیں اور ان کے پاسپورٹ جیسے معاملات میں درپیش رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کرتے ہیں، تو دوسری جانب یہی لوگ غریب طبقے کے نوجوانوں کو مذہب کے نام پر اشتعال دلا کر جھگڑوں اور ہنگاموں کی طرف دھکیلتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی رہنما کبھی ان نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں، جو ایسے معاملات میں پھنس کر عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ متعدد مقدمات میں الجھ جانے کی وجہ سے ان نوجوانوں کو نہ صرف روزگار کے مواقع سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کی اعلیٰ تعلیم، بیرونِ ملک ملازمت اور دیگر امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
پریانک کھرگے نے مزید کہا کہ کیا غریبوں کے بچوں کو بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے، روزگار کے مواقع تلاش کرنے اور بہتر مستقبل بنانے کا حق نہیں ہے؟ انہوں نے بی جے پی رہنماؤں سے سوال کیا کہ اگر مذہب کے نام پر سرگرمیاں اتنی ہی اہم ہیں تو پھر اپنے بچوں کو بیرونِ ملک کیوں بھیجا جا رہا ہے؟
وزیر کے اس بیان نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں نوجوانوں کے مستقبل اور سیاسی رویوں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔