نئی دہلی، 5 اپریل (ایس او نیوز): سپریم کورٹ کی جج بی وی ناگرتھنا نے کہا ہے کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعلقات آئینی اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں اور انہیں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاستوں کو اپنے ماتحت سمجھنے کے بجائے انہیں برابر کا شراکت دار تصور کرنا چاہیے۔
پٹنہ میں واقع چانکیہ نیشنل لا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس ناگرتھنا نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ متعین معاملات کے علاوہ ریاستی حکومتیں مرکز کے تابع نہیں ہیں۔ اس لیے اقتدار میں موجود کسی بھی سیاسی جماعت سے قطع نظر، ریاستوں کو ان کا جائز مقام، احترام اور اہمیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز اور ریاستوں کے تعلقات میں سیاسی اختلافات یا نظریاتی تضادات کو بالائے طاق رکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ معاملہ آئینی طرز حکمرانی کے دائرے میں آتا ہے۔ شہریوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ مرکز یا ریاست میں کون سی جماعت برسراقتدار ہے، بلکہ انہیں دونوں حکومتوں کی جانب سے شروع کی گئی فلاحی اسکیموں اور اقدامات سے یکساں طور پر فائدہ ملنا چاہیے۔
جسٹس ناگرتھنا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی یا انتظامی امور میں کسی بھی ریاست کے شہریوں کے ساتھ امتیاز برتنا قابل قبول نہیں ہے۔ ترقیاتی پروگراموں میں امتیازی پالیسی اختیار نہیں کی جا سکتی، بلکہ مساوات کو بنیادی اصول کے طور پر اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سیاسی طاقت کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔ وفاقی نظام کا مقصد مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے، تاکہ حکمرانی میں توازن، جوابدہی اور شفافیت برقرار رہے۔