بھٹکل 25/مئی (ایس او نیوز) : نوائط کالونی نیشنل ہائی وے پر اولڈ ہوٹل سٹی لائٹ کے قریب واقع ’’مورین کٹے‘‘ کی منتقلی کے معاملے پر اتوار کی شام بھڑکی کشیدگی کے سلسلے میں پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر کئی دیگر نوجوانوں کی تلاش جاری ہے۔ انتظامیہ نے پورے شہر میں سخت سیکوریٹی انتظامات نافذ کرتے ہوئے 27 مئی تک امتناعی احکامات نافذ کردیے ہیں اور دفعہ 163 کے تحت چار سے زائد افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے یا گھومنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تنازعہ اُس وقت شروع ہوا جب قومی شاہراہ 66 کی فور لین توسیع کے منصوبے کے تحت موجودہ ’’مورین کٹے‘‘ کو منتقل کرنے کی غرض سے ہائی وے کنارے ایک نیا ڈھانچہ تعمیر کیا جانے لگا۔ مقامی مسلمانوں نے اس پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ مقام مکمل طور پر مسلم آبادی پر مشتمل ہے اور وہاں ایک مذہبی ڈھانچہ تعمیر کئے جانے سے مستقبل میں شرپسند عناصر ماحول خراب کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرسکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ بھٹکل میں اس نوعیت کی کوششیں ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔


اتوار شام معاملہ اُس وقت مزید بگڑ گیا جب سیکڑوں نوجوان متنازع مقام پر جمع ہوگئے اور مبینہ طور پر زیرِ تعمیر ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کے لیڈران نے بعض میڈیا والوں کے سامنے اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے پولس تھانہ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ پتہ چلا ہے کہ اتوار دیر رات بی جے پی اور سنگھ پریوار کارکنان نے متنازع مقام کی طرف مارچ کرنے کی بھی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا اور کئی افراد کو احتیاطی طور پر تحویل میں لینے کے بعد رہا کردیا۔ رات دیر تک علاقے میں کشیدگی کا ماحول برقرار رہا۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کاروار سے اُتر کنڑا ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این فوری طور پر بھٹکل پہنچے جبکہ رات کو ہی اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کی کاروائی شروع کی گئی۔ پیر کو اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی نے واضح کیا کہ اصل ’’مورین کٹے‘‘ اپنی پرانی جگہ پر محفوظ ہے اور نہ تو اسے منہدم کیا گیا ہے اور نہ ہی ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں مورین کٹے کی مسماری سے متعلق افواہیں پھیلائی گئیں، جس کے باعث عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔
ایس پی کے مطابق متبادل مقام پر زیرِ تعمیر ڈھانچہ دراصل شاہراہ کی توسیعی کاموں کے دوران مقامی روایت کو برقرار رکھنے کے مقصد سے تعمیر کیا جارہا تھا، مگر بارش کی وجہ سے کام ادھورا رہ گیا تھا۔ بعد میں اسی تعمیر کو لے کر تنازعہ پیدا ہوا۔
مقامی لوگوں کے مطابق ’’مورین کٹے‘‘ دراصل ایک روایتی پلیٹ فارم ہے جہاں پڑوسی اضلاع اُڈپی اور دکشن کنڑا سے جلوس کی شکل میں سرسی ماری کامبا مندر لے جائی جانے والی ’’ماری ہورے‘‘ (دیوی ماری سے متعلق نذرانہ یا بوجھ) کو عارضی طور پر رکھا جاتا ہے۔ انتظامیہ نے بھی واضح کیا کہ یہ کوئی باقاعدہ مندر نہیں بلکہ مقامی رسم و رواج سے وابستہ ایک روایتی مقام ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق نیا ڈھانچہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کی رائٹ آف وے (ROW) زمین کے اندر اس مقصد سے تعمیر کیا جارہا تھا تاکہ شاہراہ کی توسیعی کاموں کے دوران ٹریفک کی روانی اور عوامی آمدورفت متاثر نہ ہو۔
تاہم مسلم لیڈران نے اس اقدام پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیرالا سے گوا تک قومی شاہراہ کی توسیع کے دوران کئی مندروں، مسجدوں اور درگاہوں کو ہٹایا جاچکا ہے، تو پھر اس معاملے میں الگ رعایت کیوں دی جارہی ہے؟ ان کے مطابق متعلقہ زمین پہلے ہی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی تحویل میں جاچکی ہے اور قانون کے تحت وہاں کسی نئے مذہبی ڈھانچے کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
مجلسِ اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر عنایت اللہ شابندری نے الزام عائد کیا کہ قومی شاہراہ کی زمین پر ہائی وے، محکمۂ مالگزاری اور پولیس حکام کی موجودگی میں کسی ڈھانچے کی تعمیر کی اجازت دینا ’’غیر قانونی‘‘ اور ضابطوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو مورین کٹے کو اس کی اصل جگہ پر برقرار رکھا جائے یا پھر اسے مسلم آبادی سے دور منتقل کیا جائے۔
دوسری جانب مخالف کمیونٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ ’’مورین کٹے‘‘ کئی دہائیوں سے اولڈ سٹی لائٹ ہوٹل کے قریب قومی شاہراہ کنارے موجود ایک مذہبی عقیدت کا مقام ہے، اور چونکہ شاہراہ کی توسیع کے باعث اس کی منتقلی ناگزیر ہوگئی تھی، اس لئے اسے متصل سرکاری زمین پر دوبارہ تعمیر کیا جانا چاہئے تاکہ مقامی روایت برقرار رہ سکے۔
واقعے کے بعد پولیس نے چار الگ الگ مقدمات درج کئے ہیں جبکہ پچاسوں نامعلوم افراد کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر مزید افراد کی شناخت کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔
ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لئے سخت نگرانی کی جارہی ہے۔ ایس پی دیپن ایم این کے مطابق اس وقت صورتحال قابو میں ہے، تاہم احتیاطی اقدامات کے طور پر پورے بھٹکل میں سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جاسکے۔
گرفتارگان کی شناخت:
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پولس نے جن آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے، اُن کی شناخت کوگتی کے رہائشی محمد پٹھان، چوتنی کے رہائشی محمد اشرف ، صدیق اسٹریٹ کے رہائشی عبدالباسط ، آزاد نگر کے رہائشی محمد رئیس ، کارگیدے کے رہائشی محمد سمدان ، نوائط کالونی ہائی وے کے رہائشی محمد الیاس ، مدینہ کالونی کے رہائشی عاقب طاہرہ اور پورورگا کے رہائشی ذوالکف کی حیثیت سے کی گئی ہے۔