ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آسام میں سیلاب کی شدت برقرار، 13 اضلاع میں 1.55 لاکھ سے زائد افراد متاثر، ہلاکتیں 98 تک پہنچ گئیں

آسام میں سیلاب کی شدت برقرار، 13 اضلاع میں 1.55 لاکھ سے زائد افراد متاثر، ہلاکتیں 98 تک پہنچ گئیں

Sat, 08 Aug 2026 16:49:53    S O News

گوہاٹی، 8/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) آسام میں سیلاب کی صورتحال انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے، 13 اضلاع میں 15 لاکھ سے زائد لوگ اب بھی سیلاب کی زد میں ہیں، جبکہ سیلاب کے باعث رواں سال ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 98 ہو گئی ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق فی الحال 13 اضلاع کے 33 ریونیو سرکلز میں پھیلے 464 گاؤں کے 155849 لوگ متاثر ہیں۔ شیو ساگر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں 48286 لوگ متاثر ہوئے، اس کے بعد گولا گھاٹ میں 58750، جورہاٹ میں 25259، چرائی دیو میں 12779، ناگاؤں میں 5424، درانگ میں 3367 اور دھیماجی میں 1265 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست بھر میں 10748.64 ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی کھڑی فصلیں اب بھی زیر آب ہیں۔

اے ایس ڈی ایم اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں 73 امدادی کیمپ اور امدادی سامان کی تقسیم کے مراکز کام کر رہے ہیں، جو ہزاروں بے گھر لوگوں کو پناہ اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ فی الحال امدادی کیمپوں میں مجموعی طور پر 10326 افراد رہ رہے ہیں جبکہ 6881 لوگوں کو امدادی مراکز کے ذریعے مدد مل رہی ہے۔ افسران نے بتایا کہ جمعہ کی صبح گولا گھاٹ اور نمالی گڑھ میں دھنسیری (جنوب) ندی کے ساتھ ساتھ شری بھومی ضلع میں کوشیارا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی تھیں، حالانکہ کوئی بھی ندی اپنے اب تک کے سب سے اونچے سیلابی لیول سے اوپر نہیں بہہ رہی تھی۔ اس آفت کے باعث مویشی بھی متاثر ہوئے ہیں، جس کی زد میں مجموعی طور پر 47879 جانور آئے ہیں۔

متاثرہ اضلاع میں رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے، جن میں 126 گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 344 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) سول ڈیفنس کے اہلکاروں اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے بچاؤ اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 219 امدادی اہلکار، 8 کشتیاں اور کئی طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ متاثرہ آبادی میں اناج، پینے کا پانی، بچوں کی خوراک اور دیگر ضروری اشیاء سمیت امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ وہ سیلاب کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور حساس علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو الرٹ رہنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ کئی ندیوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔


Share: