نئی دہلی ، 8/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس نے ہفتہ کو کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے ایوان میں حاضر نہ ہونے اور اراکین پارلیمنٹ کے سوالات کا سامنا نہ کرنے کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ اب جبکہ موجودہ اجلاس کے صرف 4 روز باقی رہ گئے ہیں، تو انہیں مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کی کارروائی کے حوالے سے جواب دینا چاہیے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مسلسل 15 دنوں سے پارلیمنٹ کی کارروائی معمول کے مطابق نہیں چل سکی ہے اور اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آکر احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور طلبہ پر ہوئی پولیس کی بربریت، خاص کر 20 جولائی کے واقعے پر بیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں امیت شاہ کے حوالے سے جے رام رمیش مزید لکھتے ہیں کہ ’’وہ پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں آتے ہیں اور گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں، لیکن ان میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اراکین پارلیمنٹ کا سامنا کرنے اور دہلی پولیس کی کارروائی پر سوالوں کے جواب دینے کی ہمت نہیں ہے، جبکہ دہلی پولیس براہ راست ان کے چارج اور کنٹرول میں ہے۔ ان کا مسلسل ایوان سے غیر حاضر رہنا غیر معمولی امر ہے۔‘‘
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’پارلیمنٹ کے رواں اجلاس کے ابھی 4 دن اور باقی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کو سب سے پہلے پولیس کی زیادتیوں پر جواب دینا چاہیے۔ وزیر اعظم کو رام مندر ٹرسٹ کی چندہ چوری اور عقیدت کے ساتھ دھوکے پر جواب دینا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اس ٹرسٹ کے قیام کا اعلان انہوں نے خود 5 فروری 2020 کو لوک سبھا میں بڑے زور و شور سے کیا تھا۔ ان کی طرف سے منتخب کردہ اسی ٹرسٹ نے تمام ہندوستانیوں کے بھروسے اور عقیدت کے ساتھ غداری کی ہے۔ وزیر اعظم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ یہ جوڑی بڑی بڑی باتیں کرنے اور کھوکھلے دعوے میں ماہر ہے، لیکن ان کی بزدلی کا اب پوری طرح پردہ فاش ہو چکا ہے۔‘‘