جموں ، 28/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ ایسٹ سے تعلق رکھنے والے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی معراج ملک کو آج صبح تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد کٹھوعہ جیل سے رہائی مل گئی۔ رہائی کے وقت جیل کے باہر ان کے ہزاروں حامی موجود تھے، جنہوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور زبردست نعرے بازی کے ساتھ اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
معراج ملک، جو عام آدمی پارٹی کی جموں و کشمیر یونٹ کے سربراہ بھی ہیں، کو 8/ ستمبر 2025 کو مبینہ طور پر عوامی نظم و نسق کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ڈوڈہ انتظامیہ نے ان پر 'مسلسل غیر قانونی سرگرمیوں' اور اشتعال انگیز بیانات دینے کا الزام عائد کیا تھا، جن میں ایک ہیلتھ سینٹر کی منتقلی کے خلاف احتجاج اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تنازعات بھی شامل تھے۔
معراج ملک اس وقت اپنے حامیوں کے ہمراہ ڈوڈہ کی جانب روانہ ہیں جہاں ان کے مزید استقبال کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ بتادیں کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے گزشتہ روز معراج ملک کی جانب سے دائر کردہ ہیبیس کارپس پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ان کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیا تھا اور فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست کے لیے پیش کیے گئے الزامات قانونی جانچ پر پورے نہیں اترتے، جس کے باعث نظر بندی کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اگر معراج ملک کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
درخواست گزار نے عدالت میں یہ موقف پیش کیا کہ معراج ملک کی حراست غیر آئینی اور بلاجواز ہے، جبکہ اس کے حق میں پیش کیے گئے اسباب کمزور اور ناکافی ہیں، جو کسی بھی صورت میں احتیاطی حراست جیسے سخت قانون کے نفاذ کو جواز فراہم نہیں کرتے۔