بنگلورو ، 15/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کے مطالبہ پر اپنے ملک گیر احتجاج کے حصے کے طور پر کاکروچ جنتا پارٹی نے بنگلورو کے فریڈم پارک پر پرامن مظاہرہ کیا۔ نیٹ پرچہ کے افشاء معاملہ اور سی بی ایس ای امتحانات کے آن اسکرین مارکنگ سسٹم میں خامیوں کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور سماجی جہد کار سونم وانگ چوک نے مظاہرہ میں شرکت کی جبکہ اداکار پرکاش راج نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مسٹر سونم وانگ چوک کو ملک کا وزیر تعلیم بنایا جانا چاہئے۔ جہد کار وانگ چوک نے بتایا کہ کسی وزیر کو ان کی طرح ہونا چاہئے تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ خود اس عہدہ کے خواہشمند نہیں ہیں۔
سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے مظاہرہ کے موقع پر کہا کہ یہ سب کچھ ابھیجیت ڈپکے کے ایک ٹوئیٹ سے شروع ہوا تھا اور یہ تحریک شروع ہوگئی۔ ہم ہر کسی کو چیلنج کر رہے ہیں بشمول سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے جنہوں نے ہمیں کاکروچ کہا تھا۔ قبل ازیں آج دن میں حیدرآباد کے دھرنا چوک پر بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا مظاہرہ ہوا تھا جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرہ مرکز کی این ڈی اے حکومت کے خلاف اظہار ناراضگی کیلئے منعقد ہوا تھا۔
مسٹر سونم وانگ چوک نے بنگلورو میں واضح کیا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی اقتدار کیلئے یا کسی سیاسی جماعت کو چیلنج کرنے کیلئے نہیں ہے بلکہ عوامی شعور ابھارنے کیلئے ہے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے دہلی، پونے، لکھنو اور امرتسر میں بھی اس طرح کے احتجاج کئے جاچکے ہیں۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ ہم کو ناخواندہ سیاستدان اور غنڈہ کہا جا رہا ہے۔ جب ہم اپنی آواز اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ہم ٹوٹے ہوئے سسٹم کو آشکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کیا کہا جاتا ہے؟ ہمیں کاکروچ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لاکھوں طلباء تھے جو مستقبل کے ڈاکٹرس بن سکتے تھے۔ ہر طالب علم جو دوسروں کی زندگی بچانے کیلئے امتحان تحریر کرنے گیا تھا اسے خود اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ملک کیلئے اس سے زیادہ شرم کی کوئی اور بات ہوگی۔ یہ ملک اس سے کہیں بہتر ہے۔
سونم وانگ چوک نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ اعلان کردیجئے کہ ہندوستان اب ایک جمہوریت نہیں رہ گیا ہے۔ یہ ایک مطلق العنان ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اسے جواب دینا چاہئے۔ وانگ چوک نے کہا کہ ہندوستان اب وہ ملک نہیں رہ گیا ہے جہاں صرف اقتصادی خسارہ ہے بلکہ اب ملک میں اعتماد کا بھی خسارہ ہے۔ اگر عوام کو ڈر و خوف میں رہنا پڑ رہا ہے تو وہ لوگ چین میں ہی پیدا ہوجاتے، وہاں کم از کم ٹرینیں تیز رفتار دوڑتی ہیں۔
اداکار پرکاش راج نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ’’تعلیم یافتہ‘‘ وزیر اعظم کی پیپر لیک پر خاموشی پر سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے ساری پولیٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کی ہے اور یہ دیکھا ہے کہ سیاست کس طرح کام کرتی ہے، ٹیچرس کس طرح کام کرتے ہیں اور کس طرح سے پرچے لیک ہوتے ہیں۔ ایسے میں تعلیم یافتہ وزیر اعظم، آپ خاموش کیوں ہیں؟