پنچی ، 13/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) گوا کی پونڈہ سمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کو منسوخ کرنے کے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کانگریس پارٹی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ ضمنی انتخاب گزشتہ برس 15 اکتوبر2025 کو بی جے پی کے ایم ایل اے روی نائک کی موت کے بعد ہونا تھا۔ الیکشن 9 اپریل کومجوزہ تھا لیکن ووٹنگ سے عین قبل اسے منسوخ کر دیا گیا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے رکن گریش چوڈنکر کے مطابق پونڈہ اسمبلی سیٹ کے لیے پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر کیتن بھاٹیکر نے ضمنی انتخاب کو منسوخ کرنے کے بامبے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن (ایس ایل پی) دائر کی ہے۔ اس میں بامبے ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ضمنی انتخاب کو منسوخ کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے 8 اپریل کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ ضمنی انتخاب کے لیے جاری نوٹیفکیشن کو منسوخ کردیا تھا جس میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا گیا تھا۔ کیونکہ مقننہ کی مدت کار ایک سال سے بھی کم وقت میں ختم ہونے والی ہے۔ عدالت نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت اگر اسمبلی کی میعاد ایک سال سے کم رہ گئی ہے تو ضمنی انتخاب نہیں کرایا جانا چاہیے۔
پونڈہ حلقہ کے 2 رجسٹرڈ ووٹروں نے نوٹیفیکیشن کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی کیونکہ موجودہ گوا اسمبلی کی مدت ایک سال سے بھی کم بچی ہے۔ یہ مدت 14 مارچ 2027 کو ختم ہو گی۔ ان کا موقف تھا کہ اتنی کم مدت کے لیے الیکشن کرانا قانونی التزامات کے خلاف ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو قبول کرتے ہوئے الیکشن منسوخ کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ انتخابی نتائج کا اعلان 4 مئی کو ہونا تھا، اس لیے جیتنے والے ایم ایل اے کو صرف تقریباً 9 ماہ کی ہی مدت ملتی۔
اس دوران کانگریس پارٹی نے اس پورے واقعہ پر سوال اٹھائے ہیں۔ سی ڈبلیو سی کے رکن گریش چوڈانکر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گوا کے وزیر اعلیٰ کو ضمنی انتخاب ہارنے کا ڈر ہے جس کی وجہ سے آئینی اداروں کا غلط استعمال کرکے الیکشن منسوخ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پونڈہ کے لوگوں کو ووٹ دینے اور اپنے ایم ایل اے کو منتخب کرنے کا پورا حق تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم چلائی گئی، بیلٹ پیپرز جاری ہو چکے تھے اور امیدوار تیار تھے لیکن ووٹنگ سے محض 16 گھنٹے قبل الیکشن منسوخ کر دیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی، یہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ہمارے گوا کانگریس کے امیدوار ڈاکٹر کیتن بھاٹیکر نے عوامی نمائندگی کے حق کو بحال کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس کی اس ہفتے سماعت متوقع ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ووٹروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔ جہاں حکمراں بی جے پی نے اس فیصلے کو چونکانے والا بتایا ہے، وہیں کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ساتھ سازباز اور نوٹیفکیشن میں تاخیر کر کے ضمنی انتخاب منسوخ کرانے کا الزام لگایا۔