ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات، لبنان میں اسرائیلی حملے جاری؛ جنگ بندی غیر یقینی

اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات، لبنان میں اسرائیلی حملے جاری؛ جنگ بندی غیر یقینی

Sat, 11 Apr 2026 14:37:10    S O News
اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات، لبنان میں اسرائیلی حملے جاری؛ جنگ بندی غیر یقینی

اسلام آباد / بیروت / واشنگٹن (ایس او نیوز): مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم اور فیصلہ کن نوعیت کے مذاکرات ہفتہ کے روز شروع ہو گئے ہیں، جبکہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے تسلسل نے جنگ بندی کی کوششوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اعلیٰ سطحی امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا ہے، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی سینئر حکام کر رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں ان مذاکرات کو “فیصلہ کن مرحلہ” قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے میں جنگ یا امن کے تعین میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں مستقل جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے جیسے اہم نکات زیر بحث ہیں۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے بند کیے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔

ادھر لبنان میں اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جہاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً دو ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں اس کی کارروائیاں ایران-امریکہ جنگ بندی سے الگ ہیں، جس پر ایران نے شدید اعتراض اٹھایا ہے۔

اہم پیش رفت کے طور پر، حالیہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک نایاب براہِ راست رابطہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ ہفتے امریکی ثالثی میں مزید مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تجزیہ کار اس پیش رفت کو ممکنہ سفارتی بریک تھرو قرار دے رہے ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔ برطانیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر ایک ہنگامی بین الاقوامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں اس اہم بحری راستے کی بحالی پر زور دے رہی ہیں۔

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں، اور خطے میں اس کے بحری اثاثے بدستور الرٹ پر ہیں۔ اس کے برعکس ایران نے اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی تنازعات کے حل کو معاہدے کی شرط قرار دیا ہے۔

عالمی سطح پر مختلف ممالک نے محتاط ردعمل دیا ہے۔ چین نے جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے، جبکہ روس نے ایران کے مؤقف کے قریب رہتے ہوئے امریکی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ یورپی ممالک نے فوری جنگ بندی، خاص طور پر لبنان کو امن عمل میں شامل کرنے، اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک نے خلیجی کشیدگی کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال میں جنگ بندی کا امکان موجود ہے، تاہم اس کا دارومدار لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں استحکام پر ہے۔ اگر ان نکات پر اتفاق نہ ہو سکا تو خطہ ایک وسیع تر جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

فی الحال اسلام آباد میں مذاکرات جاری ہیں اور کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی برادری ان مذاکرات کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے جو مشرق وسطیٰ کو بڑے تصادم سے بچا سکتا ہے۔


Share: