ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایم ایس پی میں لاگت سے 50 فیصد زائد اضافہ کی درخواست، سپریم کورٹ نے مرکز کو جواب دینے کا دیا حکم

ایم ایس پی میں لاگت سے 50 فیصد زائد اضافہ کی درخواست، سپریم کورٹ نے مرکز کو جواب دینے کا دیا حکم

Mon, 13 Apr 2026 18:45:28    S O News

نئی دہلی ، 13/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)سپریم کورٹ میں فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی سے متعلق ایک اہم عرضی پر سماعت ہوئی، جس میں کسانوں کو ان کی پیداوار کا منصفانہ اور مناسب معاوضہ دلانے کا مطالبہ کیا گیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس پی طے کرتے وقت کھیتی کی مکمل حقیقی لاگت کو بنیاد بنایا جائے اور اس پر کم از کم پچاس فیصد منافع شامل کیا جائے، تاکہ کسانوں کو مالی تحفظ فراہم ہو سکے۔ عدالت نے معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور اس سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کسان اپنی فصل ایم ایس پی پر فروخت کرنا چاہتے ہیں، حکومت ان کی پوری پیداوار خریدنے کی ذمہ داری لے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے ہر گاؤں، بلاک، تحصیل اور ضلع کی سطح پر سرکاری خرید مراکز قائم کرنے کی مانگ بھی رکھی گئی ہے، تاکہ کسانوں کو اپنی فصل بیچنے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عرضی گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے پیش نظر کسانوں کے زرعی قرضے معاف کیے جائیں۔

سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت میں دلیل دی کہ ہر سال دس ہزار سے زائد کسان خودکشی کر رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ فصلوں کی قیمت کا حقیقی لاگت سے کم ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم ایس پی کو لاگت سے پچاس فیصد زیادہ مقرر کیا جائے تو کسانوں کو بہتر فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور ان کی معاشی حالت میں بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس وقت حکومت بنیادی طور پر گیہوں اور چند دیگر اناج کی ہی خریداری کرتی ہے، جبکہ دیگر فصلیں اگانے والے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے سماعت کے دوران کہا کہ ایم ایس پی کے تعین کے لیے مختلف طرح کے حسابی فارمولے پیش کیے جا رہے ہیں، لیکن ملک کے مختلف حصوں میں زمین، محنت اور سرمایہ کی لاگت الگ الگ ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ہی پالیسی پورے ملک پر نافذ کی جا سکتی ہے یا پھر ریاستوں اور اضلاع کے لحاظ سے الگ الگ طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑے اور چھوٹے کسانوں کے حالات میں نمایاں فرق ہے، جس کی وجہ سے یکساں پالیسی بنانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔

اس پر پرشانت بھوشن نے کہا کہ حکومت غریب طبقات کو مفت راشن فراہم کر رہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ دیا جائے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پورے ملک کی اوسط لاگت نکال کر اسی بنیاد پر کسانوں کو ادائیگی کی جائے، تاکہ ایک متوازن نظام قائم ہو سکے۔

فی الحال عدالت نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے اور آئندہ سماعت میں حکومت کا موقف سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت بلکہ زرعی پالیسی کے مستقبل کے لیے بھی نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔


Share: