ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / رام لیلا میدان کی مہاریلی کے باوجود بازار بند نہ ہونے پر کانگریس کا ردعمل، کہا: ’بی جے پی کا پروپیگنڈہ بے نقاب‘

رام لیلا میدان کی مہاریلی کے باوجود بازار بند نہ ہونے پر کانگریس کا ردعمل، کہا: ’بی جے پی کا پروپیگنڈہ بے نقاب‘

Mon, 02 Nov 2026 11:13:13    S O News

نئی دہلی ،2/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)’’بی جے پی کا پورا پروپیگنڈہ پنکچر ہو گیا! انڈیا بلاک کی مہاریلی کو بدنام کرنے اور لوگوں کو دہلی آنے سے روکنے کے لیے تاجروں کے نقصان اور بازار بند ہونے کا خوف پھیلایا گیا۔ ہر کوئی سمجھ سکتا تھا کہ جب ملک بھر سے لوگ آئیں گے تو وہ خریداری بھی کریں گے۔ دہلی میں کام کرنے والے ہر کاروباری کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور سے فائدہ ہوگا۔‘‘ یہ تبصرہ آج کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ہندی روزنامہ کی اُس خبر کا تراشہ شیئر کرتے ہوئے کیا ہے، جس میں رام لیلا میدان کے قریب بازاروں میں خوب خریداری ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

دراصل انڈیا بلاک کی طرف سے ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف یکم نومبر کو ’دہلی چلو‘ کا نعرہ دیا گیا تھا اور ملک بھر سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ راجدھانی دہلی پہنچے تھے۔ برسراقتدار طبقہ کی طرف سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ تہوار کے موقع پر اس طرح کی ریلی سے پرانی دہلی کے بازار بند ہو جائیں گے جس سے کاروباری طبقہ کو شدید نقصان ہوگا۔ حالانکہ ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا، بلکہ کچھ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ریہڑ پٹری والوں کو اس مہاریلی سے خوب فائدہ پہنچا ہے۔

اس معاملہ میں جئے رام رمیش نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کے ذریعہ پھیلائے گئے جھوٹے اور غیر مدلل منفی تشہیر کا مقصد صاف تھا: گیانیش کمار کو بچانے کے لیے ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کی جوابدہی کے حقیقی ایشو سے ملک کی توجہ بھٹکانا اور لوگوں کو مہاریلی میں شامل ہونے سے روکنا۔ لیکن ہوا اس کا بالکل برعکس۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’دہلی کی عوام اور ملک بھر سے آئے لوگوں نے اس منفی تشہیر کا جواب اپنے طریقے سے دیا۔ راہل گاندھی جی کی اپیل پر لوگوں نے دہلی کے بازاروں میں خریداری کی۔ پرانی دہلی کے تھوک بازاروں میں دکانیں کھلیں اور کاروبار خوب ہوا۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے دکانداروں اور ریہڑی پٹری والوں سے بھی لوگوں نے خوب سامان خریدا۔ اخباروں کی رپورٹس خود اس جھوٹے بیانیہ کی قلعی کھول رہی ہیں۔‘‘

اپنی پوسٹ میں کانگریس جنرل سکریٹری نے کاروباری طبقہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’’دہلی کے تاجروں، دکانداروں اور ان تمام شہریوں کا دل سے شکریہ، جنھوں نے راہل گاندھی کی اپیل پر عمل کیا اور جمہوری مخالفت کے ساتھ مقامی کاروبار کا بھی ساتھ دیا۔‘‘ برسراقتدار طبقہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کو سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت کی آواز کو نہ خوف سے دبایا جا سکتا ہے، نہ منفی تشہیر سے۔‘‘ طنزیہ انداز میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جھانسا منتری جی اور بی جے پی کو سمجھ لینا چاہیے کہ ملک کی عوام اُن کی اِن حرکتوں کو گزشتہ 12 سالوں سے دیکھ رہی ہے اور اب ان کے کسی جھانسے میں نہیں آنے والی ہے۔‘‘ آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’عوام ووٹ کا حق بھی بچائے گی، کاروبار بھی چلائے گی اور جوابدہی بھی طلب کرے گی۔‘‘


Share: